ہینٹا وائرس سے متاثرہ لگژری کروز شپ ایم وی ہونڈیئس ہسپانوی جزیرے ٹینریف سے نیدرلینڈز کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ اس جہاز سے آخری چھ مسافروں اور عملے کے ارکان کو نکال لیا گیا ہے۔
جہاز پر سوار آخری مسافروں میں چار آسٹریلوی، ایک برطانوی شہری جو آسٹریلیا میں مقیم ہے اور ایک نیوزی لینڈ کا باشندہ شامل تھا۔ گریناڈیلا ڈی ابونا کی بندرگاہ پر مختصر قیام کے دوران ان مسافروں کے علاوہ انیس عملے کے ارکان اور دو ڈاکٹروں کو جہاز سے اتارا گیا۔ اس کے بعد جہاز پچیس عملے کے ارکان، ایک ڈاکٹر اور ایک نرس کے ساتھ نیدرلینڈز کی جانب روانہ ہوا۔
ہسپانوی وزیر صحت مونیکا گارشیا نے کہا کہ مشن کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے اور آپریشن کے اختتام کے بعد جہاز سفر پر نکل چکا ہے۔ نیدرلینڈز کی وزارت خارجہ کے مطابق جہاز سے اتارے گئے افراد کو بسوں کے ذریعے مقامی ہوائی اڈے منتقل کیا گیا جہاں سے انہیں دو خصوصی طیاروں کے ذریعے نیدرلینڈز روانہ کیا گیا۔ عملہ نیدرلینڈز میں قرنطینہ مکمل کرے گا جبکہ آسٹریلیا جانے والے مسافروں کے قرنطینہ کا فیصلہ آسٹریلوی حکومت کرے گی۔
اس پیچیدہ آپریشن کے دوران اب تک چورانوے افراد کو بحفاظت ان کے ممالک پہنچایا جا چکا ہے۔ ایم وی ہونڈیئس کی جنوبی ارجنٹائن سے روانگی کے اکتالیس دن اور وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص کے نو دن بعد یہ انخلا مکمل کیا گیا ہے۔
وائرس کے پھیلاؤ کے بعد سے اب تک ایک ڈچ جوڑے اور ایک جرمن شہری سمیت تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ وائرس عام طور پر جنگلی چوہوں سے پھیلتا ہے تاہم قریبی رابطے کی صورت میں انسانوں سے انسانوں میں منتقلی کے شاذ و نادر واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے ٹینریف میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جہاز پر طویل قیام کے باعث کچھ مسافر ذہنی دباؤ اور اعصابی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹے سے کیبن میں ہفتوں تک بند رہنا انتہائی مشکل ہے، اس لیے مسافروں کو جہاز سے اتارنا ہی واحد اور بہترین راستہ تھا۔
جہاز کے کپتان جان ڈوبروگووسکی نے مسافروں اور عملے کے صبر اور نظم و ضبط کی تعریف کی۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ وائرس انسانوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا، اس لیے عام عوام کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وبا کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے پرسکون رہیں۔ یورپی مرکز برائے انسداد امراض کے ایمرجنسی لیڈ جیانفرانکو سپیٹیری نے کہا کہ ہم وائرس سے واقف ہیں اور مزید پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں، اس سے کسی نئی عالمی وبا کے پھیلنے کا خدشہ نہیں ہے۔
ایم وی ہونڈیئس پر تئیس ممالک کے ایک سو سینتالیس مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے جب دو مئی کو عالمی ادارہ صحت کو سانس کی بیماریوں کے کیسز کی اطلاع ملی تھی۔ عالمی ادارہ صحت نے تمام مسافروں کے لیے بیالیس دن کے قرنطینہ کی سفارش کی ہے۔
