-Advertisement-

ریاض پر بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، اہم آئل ریفائنری کے قریب ملبہ گرنے سے کشیدگی میں اضافہ

تازہ ترین

ایران کیخلاف جنگی اتحاد کی امریکی اپیل، یورپی ممالک کا دو ٹوک انکار

ویب ڈیسک: آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی امداد کے مطالبے پر یورپی اتحادیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو...
-Advertisement-

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی جانب فائر کیے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو سعودی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ بدھ کی شام پیش آنے والے اس واقعے کے بعد میزائلوں کے ملبے کا کچھ حصہ ایک بڑی آئل ریفائنری کے قریب آ گرا۔

سعودی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق میزائلوں کو ریاض کی فضائی حدود میں ناکارہ بنایا گیا۔ ایک میزائل کا ٹکڑا ریفائنری کے قریب گرنے سے مقامی رہائشی علاقے میں محدود پیمانے پر نقصان ہوا جبکہ چار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ تیس ہزار بیرل یومیہ گنجائش کی حامل یہ ریفائنری بدستور فعال ہے اور اس کے آپریشنز پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

مقامی وقت کے مطابق شام سات بج کر تئیس منٹ پر دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھا۔ حکام نے موبائل الرٹ سسٹم کے ذریعے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ ایمرجنسی سروسز نے فوری طور پر متاثرہ علاقے میں پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

یہ حملہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا عکاس ہے۔ اسی روز متحدہ عرب امارات اور قطر میں بھی فضائی خطرات رپورٹ ہوئے، جہاں راس لفان میں واقع گیس حب کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ واقعات ایران کی جانب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر عالمی توانائی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ توانائی کے مراکز پر حملے ایک طویل اقتصادی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

سعودی عرب نے اپنے دفاع کے حق کو برقرار رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ بحرانی صورتحال سے نمٹنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مملکت میں ہنگامی وزارتی اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -