ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کی صبح وسطی ایران کی فضائی حدود میں امریکی ساختہ ایف 35 لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا گیا جس سے اسے شدید نقصان پہنچا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی مقامی وقت کے مطابق رات دو بج کر پچاس منٹ پر جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کی گئی۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ طیارے کا حتمی انجام تاحال غیر واضح ہے تاہم اس کے تباہ ہو کر گرنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔
ایرانی عسکری ترجمان کے مطابق یہ واقعہ 125 سے زائد امریکی اور اسرائیلی ڈرونز کو ناکام بنانے کے بعد پیش آیا۔ ایران نے اسے اپنے مربوط فضائی دفاعی نظام کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اس سے قبل ایران نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا تھا جس سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور عالمی منڈیوں و ہوابازی کا نظام متاثر ہوا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ایک ایف 35 طیارہ ایران کے اوپر جنگی مشن مکمل کرنے کے بعد ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ طیارے کو ایرانی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا ہے، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ یہ کشیدگی 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ جارحیت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس جنگ کے دوران تہران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت سمیت اب تک تیرہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دونوں جانب سے جاری اس تنازع نے خطے کی صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔
