امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں جاپانی وزیراعظم سنائے تاکائچی کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران پر حملے سے قبل اتحادیوں کو آگاہ نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے پرل ہاربر کا متنازع ذکر چھیڑ دیا۔
ملاقات کے دوران ایک جاپانی صحافی نے سوال اٹھایا کہ امریکا نے ایران پر 28 فروری کو کیے گئے فوجی ایکشن سے قبل جاپان جیسے قریبی اتحادیوں کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔ اس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ان کی انتظامیہ نے کسی کو بھی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی کیونکہ وہ کارروائی میں عنصرِ حیرت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔
صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران جاپانی وزیراعظم کی موجودگی میں کہا کہ جب ہم کارروائی کرتے ہیں تو بھرپور انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو بتانا نہیں چاہتے تھے کیونکہ ہمیں حیران کن حملہ کرنا تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ حیرت کے بارے میں جاپان سے بہتر کون جانتا ہے؟ ٹھیک ہے؟ آپ نے پرل ہاربر کے بارے میں ہمیں کیوں نہیں بتایا تھا؟
صدر کے اس غیر متوقع تبصرے پر جاپانی وزیراعظم سنائے تاکائچی بظاہر حیران دکھائی دیں اور ان کی آنکھیں کچھ لمحوں کے لیے پھیل گئیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور جاپان 1952 سے باضابطہ اتحادی ہیں، تاہم دوسری جنگ عظیم کے تلخ واقعات کی یادیں اب بھی دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں حساس حیثیت رکھتی ہیں۔ سال 2016 میں سابق جاپانی وزیراعظم شنزو آبے نے پرل ہاربر کا دورہ کیا تھا اور وہاں جان گنوانے والے 2400 سے زائد امریکی فوجیوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا تھا۔
شنزو آبے نے اس وقت اپنے خطاب میں کہا تھا کہ تاریخ میں لڑی گئی شدید ترین جنگ کے باوجود امریکا اور جاپان اب ایسے اتحادی ہیں جن کے تعلقات کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے شنزو آبے کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، جنہیں 2022 میں ایک تقریب کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔
