واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جاپانی وزیراعظم ساناے تاکائچی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور عالمی توانائی منڈیوں کے بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے جاپان پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی مہم میں مزید تعاون کرے اور آبنائے ہرمز میں مائنز صاف کرنے اور ٹینکرز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بحری جہاز فراہم کرے۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ اگرچہ امریکہ کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ توقع رکھتے ہیں کہ جاپان آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے گا۔ امریکی صدر نے جاپان کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح امریکہ جاپان کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اب جاپان کو بھی ویسا ہی ردعمل دینا چاہیے۔
ملاقات کے دوران ایک غیر معمولی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ٹرمپ نے ایران پر کیے گئے اچانک حملوں کا دفاع کرتے ہوئے جاپان کے پرل ہاربر پر کیے گئے تاریخی حملے کا حوالہ دیا۔ جاپانی صحافی کے سوال پر کہ اتحادیوں کو جنگی منصوبوں سے آگاہ کیوں نہیں کیا گیا، ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیران کن کارروائی کی ضرورت تھی اور اس سے بہتر کون جانتا ہے کہ اچانک حملہ کیا ہوتا ہے۔ اس تبصرے کے بعد جاپانی وزیراعظم کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور وہ اپنی نشست پر असहج دکھائی دیں۔
وزیراعظم ساناے تاکائچی نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو ان حدود سے آگاہ کر دیا ہے جو جاپانی قوانین کے تحت ممکن ہیں۔ انہوں نے کسی واضح عسکری مدد کا اعلان نہیں کیا بلکہ عالمی توانائی مارکیٹوں میں استحکام اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔ جاپانی وزیراعظم نے ایران کے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
جاپان اپنی خام تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے پورا کرتا ہے، جس کے باعث ٹوکیو کی کوشش ہے کہ کسی بھی براہ راست فوجی تنازع سے بچا جائے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جاپان پر امریکی دباؤ بڑھ رہا ہے اور ٹوکیو کے لیے اس صورتحال میں انکار کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے توانائی، اہم معدنیات اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ وزیراعظم تاکائچی نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان میزائلوں کی مشترکہ تیاری اور پیداوار پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے نیٹو کے برعکس جاپان کی کوششوں کو سراہا، جبکہ جاپانی وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ صرف صدر ٹرمپ ہی خطے میں امن قائم کر سکتے ہیں۔
