-Advertisement-

اسرائیلی پابندیوں کے باعث بیت المقدس میں عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی بند

تازہ ترین

ایران کشیدگی: نیٹو نے عراق سے اپنے تمام فوجی دستے واپس بلا لیے

برسلز میں نیٹو ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اتحاد نے عراق میں اپنے مشاورتی مشن...
-Advertisement-

مقبوضہ بیت المقدس میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کے دروازے بند کر دیے گئے جس کے باعث سینکڑوں فلسطینی شہری عید الفطر کی نماز مسجد کے احاطے کے بجائے پرانے شہر کے دروازوں پر ادا کرنے پر مجبور ہوئے۔

ساٹھ سالہ فلسطینی شہری وجدی محمد شویکی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج مسجد اقصیٰ ہم سے چھین لی گئی ہے اور یہ رمضان انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال اہل بیت المقدس، مجموعی طور پر فلسطینیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک المیہ ہے۔

اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اسرائیلی حکام نے سیکیورٹی خدشات کی آڑ میں مسجد اقصیٰ، چرچ آف دی ہولی سیپلچر اور ویسٹرن وال تک رسائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر حکام نے ملک بھر میں 50 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ رمضان کے آخری عشرے اور عید الفطر کے موقع پر مسجد اقصیٰ کو بند رکھا گیا ہے۔ عید کی صبح جب نمازی جائے نماز اٹھائے مسجد پہنچے تو اسرائیلی پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ پرانے شہر کے دروازوں پر پولیس نے نمازیوں کو دھکے دیے اور کم از کم دو مقامات پر آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔

بعد ازاں، پولیس کی جانب سے کچھ دیر کے لیے نرمی برتے جانے پر نمازیوں نے ہیروڈز گیٹ کے قریب سڑک پر نماز ادا کی۔ اس موقع پر ایک امام نے مختصر خطبے میں اللہ تعالیٰ سے مظلوموں کی فتح کے لیے دعا کی۔ نماز کے بعد پولیس نے نمازیوں کو منتشر کر دیا جو خاموشی سے تنگ گلیوں میں بکھر گئے۔

عام حالات میں عید کے موقع پر ایک لاکھ کے قریب نمازی مسجد اقصیٰ کا رخ کرتے ہیں، تاہم اس بار تعداد چند سو تک محدود رہی۔ اسرائیلی پولیس کا موقف ہے کہ ہائی الرٹ کے باوجود سڑک پر نماز کی اجازت دی گئی تھی، تاہم گنجائش سے زائد افراد کے جمع ہونے اور سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش پر کارروائی کی گئی۔

دوسری جانب فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ سیکیورٹی کے بہانے مسجد کی بندش دراصل مقدس مقامات کے انتظام سے متعلق قوانین تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بیت حنینا سے تعلق رکھنے والے عالم دین ایمن ابو نجم نے کہا کہ قابض قوت نے اپنے مفادات کے لیے مسجد کے دروازے بند کیے ہیں، جو کہ قبضے کی تاریخ میں سب سے طویل بندش ہے۔

نمازی زیاد مونا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے بغیر رمضان کا گزرنا ایک ٹوٹے ہوئے دل کا احساس دلاتا ہے اور یہ ایک گہرا ذاتی صدمہ ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -