-Advertisement-

لبنان: جنگ اور نقل مکانی کے سائے میں عید الفطر کی خوشیاں ماند پڑ گئیں

تازہ ترین

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملک بھر کے مسلمانوں کو عیدالفطر کی مبارکباد

ماسکو (شاہد گھمن) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے عید الفطر کے پرمسرت موقع پر ملک بھر کے مسلمانوں کو...
-Advertisement-

لبنان میں عید الفطر کا تہوار اسرائیلی حملوں اور نقل مکانی کے بحران کے سائے میں انتہائی افسردگی کے ساتھ منایا گیا۔ خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے لبنان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے باعث عید کی خوشیاں ماند پڑ گئیں۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی اور مشرقی لبنان سمیت دارالحکومت بیروت پر کیے گئے حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی احکامات کے بعد دس لاکھ سے زائد شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

بیروت کے وسط میں قائم محمد الامین مسجد کے قریب بے گھر ہونے والے افراد شدید بارشوں سے بچنے کے لیے عارضی خیموں میں پناہ لینے پر مجبور نظر آئے۔ دو بچوں کی والدہ سماح حجولہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں کی عید کی یادیں اب ایک خواب معلوم ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھر اور خیمے یا بس میں رہنے کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے، اب ہمارے لیے عید کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔

جمعہ کی صبح اسرائیلی طیاروں نے بیروت کی فضا میں آواز کی لہر کو توڑتے ہوئے زوردار دھماکے کیے جس سے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ شہریوں کو گمان ہوا کہ یہ نئے فضائی حملے ہیں، تاہم اسرائیلی فوج نے اس کارروائی کے مقصد پر فی الحال کوئی وضاحت نہیں دی۔

متاثرین کے لیے قائم ایک اسکول میں بچوں کا دل بہلانے کے لیے موسیقی کا اہتمام کیا گیا اور رضاکاروں نے کھانے تقسیم کیے، لیکن بڑوں کے چہروں پر چھائی اداسی برقرار رہی۔ 53 سالہ عابد ناصر کا کہنا تھا کہ اب زندگی میں خوشی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اور ہم صرف ان لوگوں کے غم میں جی رہے ہیں جو ہم سے بچھڑ چکے ہیں۔

ملک کے جنوبی شہر صیدا میں لوگ عید کی روایت کے مطابق اپنے پیاروں کی قبروں پر حاضری دینے پہنچے، تاہم نقل مکانی کرنے والے بہت سے افراد اپنے آبائی علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث اس روایت کو نبھانے سے بھی قاصر رہے۔

مقامی عبادت گزار سلیمان یوسف نے کہا کہ لوگوں کے دل بوجھل ہیں اور عید کی خوشی ادھوری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملک میں جلد امن و استحکام لوٹے گا اور یہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -