امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں تعاون نہ کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے دیرینہ اتحادیوں کو بزدل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے بغیر نیٹو ایک کاغذی شیر کے سوا کچھ نہیں۔
فروری کی اٹھائیس تاریخ سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے عالمی منڈیاں شدید بحران کا شکار ہیں، جبکہ اس تنازع کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نیٹو ممالک ایران کے خلاف لڑائی میں تو شامل نہیں ہونا چاہتے، لیکن تیل کی بلند قیمتوں پر مسلسل شکوہ کناں ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ جنگ عسکری اعتبار سے جیتی جا چکی ہے اور اب اتحادیوں کے لیے کوئی بڑا خطرہ باقی نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا ایک معمولی عسکری مشق ہے جس سے تیل کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں، تاہم اتحادی اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔
دوسری جانب جرمنی، برطانیہ، فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز، جاپان اور کینیڈا نے جمعرات کے روز ایک مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب کوششوں میں تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے واضح کیا ہے کہ اس تعاون کی شرط جنگ کا خاتمہ ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے بعد کہا کہ بین الاقوامی قانون کا دفاع اور کشیدگی میں کمی لانا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔ میکرون نے مزید کہا کہ انہوں نے کسی بھی یورپی رہنما کو اس تنازع میں شامل ہونے کا خواہش مند نہیں پایا، بلکہ تمام ممالک اس کے برعکس موقف رکھتے ہیں۔
