-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کی اضافی نفری تعینات کرنے کا فیصلہ

تازہ ترین

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے جزیرہ خارک پر قبضے کا عندیہ، نیٹو کو بزدل قرار دے دیا

امریکی انتظامیہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خلیج فارس میں واقع جزیرہ خارک پر قبضے یا ناکہ...
-Advertisement-

امریکی عسکری حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تین ہفتے مکمل ہونے پر امریکہ نے خطے میں مزید ہزاروں میرینز اور بحری اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تین امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس پیش رفت کا مقصد خطے میں مستقبل کے ممکنہ آپریشنز کے لیے دفاعی صلاحیت کو بڑھانا ہے، تاہم تاحال ایران کے اندر زمینی فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

اس تعیناتی میں ایمفیبیئس اسالٹ شپ یو ایس ایس باکسر اور اس کے ساتھ میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ یونٹ اپنی مقررہ تاریخ سے تین ہفتے قبل ہی مغربی ساحل سے روانہ ہو چکا ہے اور اس میں تقریباً ڈھائی ہزار میرینز شامل ہیں۔ اس اقدام کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فی الحال کہیں بھی فوج نہیں بھیج رہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا تو اس کی اطلاع میڈیا کو نہیں دی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے پینٹاگون سے رجوع کرنے کا کہا ہے، جہاں سے تاحال کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔

ایک اور اہم پیش رفت میں امریکی بحریہ طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس فورڈ کی جگہ یو ایس ایس بش کو خطے میں تعینات کر رہی ہے، کیونکہ فورڈ کو مرمت کے لیے یونان کے جزیرے کریٹ بھیجا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پیشگی تیاریاں ایران کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں جس کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا۔ زیر غور آپشنز میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانا اور ایران کے جزیرہ خارک پر زمینی دستوں کی تعیناتی شامل ہے۔

امریکی پینٹاگون نے وائٹ ہاؤس سے کانگریس کے ذریعے اس تنازع کے لیے 200 ارب ڈالر سے زائد کے فنڈز کی منظوری کی درخواست بھی کی ہے، جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ اب تک ایران کے اندر 7 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ 40 سے زائد مائن لیئنگ بحری جہاز اور 11 آبدوزیں تباہ کی جا چکی ہیں۔

دوسری جانب امریکی عوام میں اس مہم کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ رائٹرز اور ایپوسس کے ایک سروے کے مطابق 65 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ ایران میں بڑی زمینی جنگ شروع کرنے کا حکم دیں گے، جبکہ اس اقدام کی حمایت کرنے والوں کی شرح صرف 7 فیصد ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -