امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف بوسٹن کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ وفاقی محکمہ انصاف کی جانب سے دائر کی گئی اس شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور کیمپس میں ان کے خلاف جاری تعصب پر دانستہ طور پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے جان بوجھ کر اپنے ہی قوانین کا اطلاق کرنے سے گریز کیا ہے جب متاثرین یہودی یا اسرائیلی طلبہ تھے۔ حکومتی شکایت کے مطابق یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ یہودی اور اسرائیلی برادری کو تعلیمی مواقع تک مساوی رسائی سے محروم رکھا گیا اور انہیں شعوری طور پر نظر انداز کیا گیا۔
امریکی حکومت اب اس مقدمے کے ذریعے ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر کی بازیابی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ہارورڈ سے یونیورسٹی کی پالیسیوں کے حوالے سے جاری تحقیقات کے تصفیے کے لیے ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے اس قانونی کارروائی پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ پیش رفت 13 فروری کو دائر کیے گئے ایک اور مقدمے کے بعد ہوئی ہے جس میں حکومت نے ہارورڈ پر وفاقی تحقیقات میں تعاون نہ کرنے اور داخلہ پالیسیوں میں نسل پر مبنی امتیاز برتنے کے الزامات عائد کیے تھے۔
