امریکی انتظامیہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خلیج فارس میں واقع جزیرہ خارک پر قبضے یا ناکہ بندی کے منصوبے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے امریکی میڈیا کی رپورٹس میں چار باخبر ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں حمایت نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اتحادیوں کو بزدل قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے بغیر نیٹو محض ایک کاغذی شیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ نیٹو ممالک تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تو شکایت کرتے ہیں لیکن آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فوجی تعاون سے گریزاں ہیں۔ انہوں نے ان ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک معمولی فوجی کارروائی ہے جس میں خطرہ بہت کم ہے لیکن وہ اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ ان کا یہ رویہ یاد رکھا جائے گا۔
دوسری جانب جرمنی، برطانیہ، فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز، جاپان اور کینیڈا نے ایک مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے واضح کیا کہ اس تعاون کا انحصار جنگ کے خاتمے پر ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے بعد کہا کہ بین الاقوامی قوانین کا تحفظ اور کشیدگی میں کمی لانا سب سے اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی یورپی ملک نے اس تنازع میں براہ راست شامل ہونے کی خواہش ظاہر نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں خطے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جس کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کا سخت جواب دے گا اور کسی بھی ملک کی جانب سے امریکہ کو دی جانے والی عسکری مدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
