-Advertisement-

ایلون مسک ٹوئٹر شیئر ہولڈرز کے ساتھ فراڈ کے مقدمے میں قصوروار قرار

تازہ ترین

عید الفطر کے موقع پر پاکستانی فنکاروں کے دلکش انداز سوشل میڈیا پر چھا گئے

پاکستان بھر میں عید الفطر کا تہوار مذہبی جوش و جذبے اور روایتی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا...
-Advertisement-

امریکی وفاقی جیوری نے ایلون مسک کو ٹوئٹر شیئر ہولڈرز کے ساتھ دھوکہ دہی کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ سان فرانسسکو کی ایک عدالت میں سنایا گیا جس میں مسک پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے 2022 میں 44 ارب ڈالر کے سودے کو ناکام بنانے یا شرائط تبدیل کرنے کے لیے ٹوئٹر کے حصص کی قیمتیں جان بوجھ کر گرانے کی کوشش کی۔

مقدمے کے دوران شیئر ہولڈرز کے وکیل فرانسس بوٹینی نے کہا کہ دنیا کے امیر ترین شخص ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ہر طرح کی چھوٹ حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایلون مسک اپنے ٹویٹس کے ذریعے مارکیٹ کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں سرمایہ کاروں کو پہنچنے والے نقصانات کا جوابدہ ہونا چاہیے۔ وکیل کے مطابق متاثرہ سرمایہ کاروں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ ڈھائی ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔

ایلون مسک کی قانونی ٹیم نے جیوری کے فیصلے کو راستے کی ایک معمولی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اپیل میں کامیابی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مسک کے وکلاء کا موقف ہے کہ پلیٹ فارم پر موجود بوٹس کے حوالے سے ایلون مسک کے خدشات حقیقی تھے اور ان کا مقصد کسی قسم کی دھوکہ دہی نہیں تھا۔

مقدمے کی سماعت 2 مارچ کو شروع ہوئی تھی جس میں جیوری نے مسک کے تین بیانات کا جائزہ لیا۔ جیوری نے مسک کو ان دو بیانات کا ذمہ دار ٹھہرایا جن میں انہوں نے بوٹس کی تعداد کو بنیاد بنا کر خریداری کا عمل عارضی طور پر روکنے اور اسے 20 فیصد سے زائد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم جیوری نے دھوکہ دہی کی سازش کے ایک الگ الزام کو مسترد کر دیا۔

یہ مقدمہ ان سرمایہ کاروں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جنہوں نے 13 مئی سے 4 اکتوبر 2022 کے درمیان اپنے شیئرز فروخت کیے تھے۔ ایلون مسک نے اکتوبر 2022 میں ٹوئٹر کی خریداری مکمل کی تھی جسے بعد ازاں ایکس کا نام دیا گیا۔ مسک ماضی میں بھی شیئر ہولڈرز کے ساتھ قانونی لڑائیوں میں مصروف رہے ہیں جن میں ٹیسلا کے حصص سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں جن میں وہ کامیاب رہے تھے۔

اس عدالتی کارروائی کے علاوہ ایلون مسک کو امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ایک اور مقدمے کا بھی سامنا ہے جس میں ان پر ٹوئٹر کے ابتدائی حصص خریدنے کے بعد انکشاف میں تاخیر کا الزام ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -