-Advertisement-

خطے میں کشیدگی عروج پر: ایران کا اسرائیلی ایف-16 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

تازہ ترین

ایران کا عارضی جنگ بندی کے بجائے مکمل جنگ کے خاتمے پر زور

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی عارضی جنگ بندی کے بجائے ایک مکمل،...
-Advertisement-

تہران (ویب ڈیسک) ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی فضائی حدود کے وسطی علاقے میں ایک میزائل حملے کے ذریعے اسرائیلی ایف سولہ لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی رات تین بج کر پینتالیس منٹ پر جدید ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے عمل میں لائی گئی۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ حالیہ تنازع کے دوران اب تک دو سو سے زائد دشمن کے فضائی اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جن میں ڈرونز، کروز میزائل اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی فضائی حدود میں کارروائی کے دوران ان کا ایک لڑاکا طیارہ ایرانی دفاعی نظام کی زد میں آیا تھا۔ تاہم اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ پائلٹ نے خطرے کو بروقت بھانپ لیا تھا جس کے باعث طیارہ کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہا اور مشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔

اس سے قبل امریکہ کی جانب سے ایران کی نطنز جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ ایرانی حکام نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور کسی قسم کا تابکار مواد خارج نہیں ہوا ہے۔

ایک اور پیش رفت میں ایران نے ہزاروں کلومیٹر دور واقع امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع نے اس حملے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

یہ فوجی اڈہ ڈیگو گارشیا جزیرے پر واقع ہے جو ایران کی جنوبی ترین بندرگاہ پاسابندر سے تقریباً تین ہزار آٹھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے پاس موجود بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی معلوم رینج عام طور پر دو ہزار سے دو ہزار پانچ سو کلومیٹر تک سمجھی جاتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -