-Advertisement-

چین کا معیشت کو مزید کھولنے اور متوازن تجارت کے فروغ کا عزم

تازہ ترین

موبائل ایپ کے ذریعے کروڑوں افراد سائنسی تحقیق میں معاونت کرنے لگے

دنیا بھر میں کروڑوں اقسام کے پودوں، جانوروں اور حشرات کی شناخت کے لیے ایک جدید موبائل ایپلی کیشن...
-Advertisement-

چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اتوار کے روز بیجنگ میں چائنا ڈویلپمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ چین اپنی معیشت کو غیر ملکی کمپنیوں کے لیے مزید کھولنے اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ متوازن تجارت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین کو امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تنازعات اور محصولات کی جنگ کا سامنا ہے۔

وزیراعظم لی چیانگ نے کہا کہ چین اعلیٰ معیار کی غیر ملکی مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ کرے گا اور عالمی تجارت کے حجم کو وسیع کرنے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ دو روزہ سالانہ فورم کا مقصد عالمی کاروباری رہنماؤں اور ماہرین اقتصادیات کے سامنے چین کے معاشی وژن کو پیش کرنا ہے۔ یہ فورم ایسے وقت منعقد ہوا ہے جب چین کا تجارتی سرپلس ریکارڈ ایک اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

بیجنگ کو اس وقت عالمی سطح پر اپنی تجارتی پالیسیوں اور ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت پر اٹھنے والے تحفظات کا سامنا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم نے براہ راست تجارتی سرپلس کا ذکر نہیں کیا لیکن ان کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ بیجنگ عالمی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ دریں اثنا ایران میں جاری جنگ کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔

چائنا کے مرکزی بینک کے گورنر پین گونگ شینگ نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارتی عدم توازن کا جائزہ لیتے وقت صرف اشیاء کی تجارت نہیں بلکہ خدمات اور مالیاتی کھاتوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین کا کرنسی کی قدر کم کر کے تجارتی فائدہ حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

چین غیر ملکی سرمایہ کاری میں آنے والی کمی کو دور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ جنوری میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری پانچ اعشاریہ سات فیصد کمی کے ساتھ بانوے ارب یوآن رہی، جبکہ گزشتہ برس اس میں ساڑھے نو فیصد کی کمی دیکھی گئی تھی۔ حکومت نے دسمبر میں دو سو شعبوں کو غیر ملکی مراعات کی فہرست میں شامل کیا ہے تاکہ ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اور گرین ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھائی جا سکے۔

وزیراعظم لی چیانگ نے یقین دلایا کہ غیر ملکی کمپنیوں کو مقامی اداروں کے مساوی حقوق حاصل ہوں گے تاکہ وہ چین میں اعتماد کے ساتھ اپنے کاروبار کو فروغ دے سکیں۔ وزیر تجارت وانگ وینٹاؤ نے بھی عالمی دوا ساز کمپنیوں کے وفد کو یقین دلایا کہ چین انٹلیکچوئل پراپرٹی کے تحفظ اور پالیسیوں میں شفافیت کو یقینی بنائے گا۔

اس فورم میں ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک سمیت سام سنگ، ووکس ویگن، براڈکوم، سیمنز، بی اے ایس ایف اور نووارٹس جیسی بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ہے۔ اس کے علاوہ ایچ ایس بی سی، یو بی ایس گروپ اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ جیسے مالیاتی اداروں کے نمائندے بھی تقریب میں موجود تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -