-Advertisement-

امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران کے توانائی اور آبی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان، وزیر توانائی

تازہ ترین

ایران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، ٹرمپ کے اقدامات پر سخت ردعمل

تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ...
-Advertisement-

ایران کے وزیر توانائی عباس علی آبادی نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں ملک کے اہم آبی اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر توانائی نے کہا کہ دہشت گردانہ اور سائبر حملوں نے درجنوں واٹر ٹرانسمیشن اور ٹریٹمنٹ پلانٹس کو نشانہ بنایا ہے جس سے پانی کی سپلائی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تباہ شدہ تنصیبات کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔

یہ کشیدگی 28 فروری کو شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے جن میں ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع جنگ کا آغاز ہوا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو ٹریفک کے لیے نہیں کھولا تو وہ ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیں گے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے جہاں سے دنیا بھر کا 20 فیصد خام تیل اور قدرتی گیس گزرتی ہے۔ جنگ کے آغاز سے ہی یہاں تجارتی جہاز رانی کا عمل تقریباً معطل ہو چکا ہے اور ایران نے متعدد جہازوں کو انتباہ نظر انداز کرنے پر حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر جارحیت جاری رہی تو وہ خطے بھر میں توانائی کے مراکز اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور عالمی طاقتیں اس اہم آبی گزرگاہ کو بحال کرنے کے لیے سفارتی اور عسکری آپشنز پر غور کر رہی ہیں۔ ایران نے اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے یا پابندیاں لگانے کے اشارے بھی دیے ہیں جس سے طویل مدتی توانائی کے بحران اور علاقائی عدم استحکام کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -