-Advertisement-

موبائل ایپ کے ذریعے کروڑوں افراد سائنسی تحقیق میں معاونت کرنے لگے

تازہ ترین

ایران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، ٹرمپ کے اقدامات پر سخت ردعمل

تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ...
-Advertisement-

دنیا بھر میں کروڑوں اقسام کے پودوں، جانوروں اور حشرات کی شناخت کے لیے ایک جدید موبائل ایپلی کیشن نے سائنسدانوں اور عام شہریوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ آئی نیچرل لسٹ نامی غیر منافع بخش تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سکاٹ لوری کے مطابق، اس پلیٹ فارم کو ہر ماہ تقریباً ساٹھ لاکھ افراد استعمال کر رہے ہیں۔

اس ایپلی کیشن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ محض تصاویر شیئر کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ہر تصویر کے ساتھ اس کی تاریخ اور درست مقام کا اندراج بھی کرتی ہے۔ اب تک دنیا کے تمام 197 ممالک میں اس ایپ کے صارفین نے 30 کروڑ سے زائد مشاہدات ریکارڈ کیے ہیں، جو سائنسدانوں کے لیے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔

سکاٹ لوری نے بتایا کہ اس ایپ کے ذریعے ہر ماہ نئی انواع دریافت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اینڈیز کے پہاڑی سلسلے میں ایک شخص نے اپنے گھر کے بیت الخلا میں موجود نیولے کی تصاویر بنا کر ایپ پر اپ لوڈ کیں، جو کہ اس نسل کی پہلی دستاویزی تصاویر ثابت ہوئیں۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر ٹوائلٹ ویزل کے ہیش ٹیگ کے ساتھ کافی مقبول بھی ہوا۔

یہ ڈیٹا اب ماحولیاتی تبدیلیوں اور ناپید ہوتی ہوئی انواع کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سکاٹ لوری کا کہنا ہے کہ زمین کو ایک ایسے طیارے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جس کے پرزے ایک ایک کر کے نکل رہے ہیں۔ ماہرین کے خدشات کے مطابق صدی کے اختتام تک ہر تین میں سے ایک نوع معدوم ہو سکتی ہے، لہذا ان انواع کو بچانا ناگزیر ہے۔

ایپلی کیشن کی افادیت کو جانچنے کے لیے نیویارک کے علاقے بیڈ فورڈ میں مارتھا اسٹیورٹ کی رہائش گاہ پر بائیو بلٹز نامی ایک مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس ایک گھنٹے کے مقابلے میں شرکاء نے 458 مختلف انواع کی شناخت کی۔ مارتھا اسٹیورٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ بیس سال سے اپنے فارم پر رہ رہی ہیں، لیکن یہ ایپ انہیں پودوں اور حشرات کے سائنسی نام سیکھنے میں مدد دے رہی ہے۔

سکاٹ لوری نے اس بات پر زور دیا کہ عام شہریوں کا اس سائنسی عمل میں حصہ لینا ماحول کے تحفظ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کے مطابق لوگ اب یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی لی گئی ایک تصویر بھی کرہ ارض پر موجود حیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو رہی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -