-Advertisement-

ایران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، ٹرمپ کے اقدامات پر سخت ردعمل

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ انسانیت کے لیے ایک شرمناک عمل ہے: پوپ لیو

ویٹیکن سٹی میں پوپ لیو نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور انسانی...
-Advertisement-

تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں عملی جامہ پہنتی ہیں تو ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دے گا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حصص کی حامل کمپنیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا اور ان ممالک کی توانائی تنصیبات بھی قانونی اہداف ہوں گی جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔

یہ دھمکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے ایران کو 48 گھنٹے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیا تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ایرانی پاور پلانٹس کو مٹا دینے کی دھمکی دی تھی۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید ہیجان اور ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی توانائی اور ایندھن کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو تہران خطے میں موجود امریکی توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈی سیلینیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔

اس دوران کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب تہران نے پہلی بار طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فائر کیے۔ اسرائیلی ملٹری چیف ایال ضمیر کے مطابق ایران نے بحر ہند میں واقع امریکی اور برطانوی فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر 4 ہزار کلومیٹر رینج کے دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ میزائل یورپ کے دارالحکومتوں بشمول برلن، پیرس اور روم تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ادھر اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ وہ جنوبی اسرائیل پر ایرانی حملوں کے چند گھنٹوں بعد تہران پر جوابی کارروائی کر رہی ہے۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے 1970 کی دہائی کے بعد بدترین تیل بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سیکامور کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا الٹی میٹم عالمی منڈیوں کے لیے ایک ٹائم بم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس دھمکی کو واپس نہیں لیا گیا تو پیر کے روز عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ اور تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی کا قوی امکان ہے۔ ماہرین کا خدشہ ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بننے کی صورت میں یہ تنازع ایک وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر جائے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -