-Advertisement-

کیوبا میں قومی گرڈ فیل ہونے کے بعد بجلی کی بحالی کا عمل شروع

تازہ ترین

ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند کر دیے، عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تمام راستے...
-Advertisement-

کیوبا میں قومی سطح پر بجلی کا نظام درہم برہم ہونے کے بعد اتوار کے روز بحالی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے۔ رواں ماہ کے دوران ملک بھر میں بجلی کی مکمل بندش کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

سرکاری الیکٹرک یونین اور وزارت توانائی و کان کنی کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت ہوانا میں تقریباً ۷۲ ہزار صارفین کو بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے، جن میں پانچ ہسپتال بھی شامل ہیں۔ تاہم یہ تعداد ہوانا کی کل ۲۰ لاکھ کی آبادی کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

ہوانا سمیت صوبہ مٹانزاس اور ہولگوئن میں انتہائی ضروری مراکز کو بجلی فراہم کرنے کے لیے مقامی مائیکرو سسٹمز قائم کیے گئے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق کچھ علاقوں میں اتوار کی صبح بجلی بحال ہوئی، تاہم صورتحال تاحال تشویشناک ہے۔

کیوبا کو اس وقت شدید ترین توانائی بحران کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پرانا انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر ہے، جبکہ حکومت نے اس بحران کا ذمہ دار امریکی پابندیوں کو ٹھہرایا ہے۔ سابق صدر ٹرمپ کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی کہ کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک کے خلاف ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔

صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کو گزشتہ تین ماہ سے بیرون ملک سے تیل کی کوئی سپلائی نہیں ملی۔ کیوبا اپنی معیشت کو چلانے کے لیے درکار ایندھن کا محض ۴۰ فیصد خود پیدا کرتا ہے۔ وینزویلا سے تیل کی ترسیل رک جانے سے بھی بحران نے شدت اختیار کر لی ہے۔

بجلی کی طویل بندش کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ گھریلو آلات خراب ہونے، کھانا پکانے میں مشکلات اور پانی کی عدم فراہمی پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں عوام نے خراب حالات کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔

کیوبا کی الیکٹرک یونین کے مطابق قومی گرڈ کی مکمل بندش کی وجہ کیماگوئے صوبے کے نیویٹاس تھرمل پاور پلانٹ میں ایک جنریشن یونٹ کا اچانک بند ہونا تھا۔ حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں ڈیزل، پیٹرول اور ایل پی جی کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے، جس کے باعث پروازیں معطل اور دفتری اوقات کار محدود کر دیے گئے ہیں۔

عوام اس صورتحال سے عاجز آ چکے ہیں۔ ایک مقامی رہائشی ڈیگنے الارکون کا کہنا ہے کہ ہمیں اب بجلی ہو یا نہ ہو، زندہ رہنے کے لیے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ دوسری جانب، کیوبا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہر حال میں اس مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -