ممبئی میں بھارتی روپے کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ دیکھی گئی ہے اور پیر کے روز کرنسی کی قیمت اپنی تاریخ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی سپلائی میں خلل کے خدشات نے ایشیا کی تیسری بڑی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
کاروباری دن کے دوران بھارتی روپیہ 93 اعشاریہ 84 فی ڈالر کی سطح پر آ گیا، جس نے جمعہ کے روز قائم ہونے والے 93 اعشاریہ 7350 کے پچھلے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
خطے میں جاری جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان دھمکیوں کے تبادلے کے بعد کشیدگی کم ہونے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث دیگر ایشیائی کرنسیوں کی قدر میں بھی صفر اعشاریہ ایک سے صفر اعشاریہ آٹھ فیصد تک کی کمی دیکھی گئی ہے۔
جنگ کے آغاز سے اب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پچاس فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ بحران انیس سو ستر کی دہائی میں پیش آنے والے دو تیل کے بحرانوں کے مجموعی اثرات سے بھی زیادہ شدید ہے۔
بھارتی روپیہ ان کرنسیوں میں شامل ہے جو تیل کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک روپے کی قدر میں تقریباً تین فیصد کی گراوٹ آ چکی ہے۔
بی او ایف اے گلوبل ریسرچ نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر موجودہ بحران چند ہفتوں میں حل ہو جاتا ہے تب بھی جون 2026 تک روپیہ 94 کی سطح پر ٹریڈ کر سکتا ہے، جبکہ اس سے قبل یہ تخمینہ 89 روپے لگایا گیا تھا۔
