-Advertisement-

وائٹ ہاؤس میں کرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ نصب، ٹرمپ انتظامیہ کا تاریخی بیانیے کی تبدیلی کا اقدام

تازہ ترین

روس کا شہریوں پر بغیر انکرپشن والی نئی میسنجر ایپ ’میکس‘ کے استعمال کے لیے دباؤ

روس کی جانب سے میکس نامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑی مہم شروع...
-Advertisement-

وائٹ ہاؤس کے احاطے میں اطالوی مہم جو کرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ نصب کر دیا گیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا یہ اقدام امریکی تاریخ اور ثقافت کی ازسرنو تشکیل کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مجسمہ آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ کے شمالی جانب نصب کیا گیا ہے۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اطالوی نژاد امریکی تنظیموں کے صدور کے اجلاس کے نام ایک خط میں اس پیش رفت کی تصدیق کی اور مجسمے کے تحفے پر تنظیم کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے خط میں ٹرمپ نے کرسٹوفر کولمبس کو تاریخ کا عظیم ترین امریکی ہیرو قرار دیتے ہوئے انہیں ایک با بصیرت اور بہادر شخصیت قرار دیا۔

یہ مجسمہ دراصل اسی یادگار کی نقل ہے جسے سن 2020 میں جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران بالٹیمور کی بندرگاہ میں پھینک دیا گیا تھا۔ سن 1984 میں اس مجسمے کی نقاب کشائی سابق صدر رونالڈ ریگن نے کی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایسے مجسموں کی بحالی اور تنصیب کو سول حقوق کے علمبردار سماجی پیش رفت کے خلاف ایک قدم قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کولمبس کے مجسمے مقامی آبادی پر ہونے والے مظالم کی تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں۔

قبل ازیں وفاقی حکومت نے نسلی امتیاز کے خلاف مظاہروں کے دوران ہٹائے گئے دیگر متنازع مجسموں کو بھی دوبارہ نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں کانفیڈریٹ جنرل البرٹ پائیک اور سیزر روڈنی کے مجسمے شامل ہیں جنہیں واشنگٹن میں دوبارہ جگہ دی گئی ہے۔

سابق صدر ٹرمپ ان اقدامات کو ان نظریات کے خلاف جنگ قرار دیتے ہیں جنہیں وہ امریکی مفادات کے منافی گردانتے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت غلامی کی تاریخ سے متعلق نمائشوں کو ہٹانے اور پرانی تاریخی علامتوں کو بحال کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -