-Advertisement-

روس کا شہریوں پر بغیر انکرپشن والی نئی میسنجر ایپ ’میکس‘ کے استعمال کے لیے دباؤ

تازہ ترین

لندن: یہودی فلاحی تنظیم کی 4 ایمبولینسوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، نفرت انگیز جرم قرار

لندن میں یہودی ایمبولینس سروس کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے واقعے کے بعد پولیس نے اسے نفرت...
-Advertisement-

روس کی جانب سے میکس نامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑی مہم شروع کی گئی ہے، جس کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسی مقبول ترین ایپس پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ میکس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی سہولت موجود نہیں ہے، جس پر ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں اور ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فرانسیسی کمپنی پریڈکٹا لیب کے سی ای او اور سائبر سکیورٹی محقق بیپٹسٹ رابرٹ کا کہنا ہے کہ اس ایپلیکیشن سے گزرنے والا تمام ڈیٹا براہ راست روسی ریاست کے ہاتھ میں سمجھا جا سکتا ہے۔

سن 2025 میں روسی کمپنی وی کے کی جانب سے متعارف کرائی گئی یہ ایپ چین کی وی چیٹ سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس میں پیغام رسانی کے ساتھ ساتھ حکومتی خدمات، ڈیجیٹل شناختی کارڈ، بینکنگ اور ادائیگیوں کے نظام کو یکجا کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس کا استعمال قانونی طور پر لازمی قرار نہیں دیا گیا، تاہم حکومتی اقدامات سے یہ واضح ہے کہ میکس کے بغیر روزمرہ کے امور کی انجام دہی مشکل تر بنائی جا رہی ہے۔

صدر ولادیمیر پیوٹن اسے تکنیکی خودمختاری کے حصول کے لیے ایک زیادہ محفوظ پلیٹ فارم قرار دیتے ہیں۔ ماہر انٹرنیٹ گورننس ماریل وائجرمرز کے مطابق روس انٹرنیٹ کو اس طرح تشکیل دے رہا ہے کہ وہ مواد کی اشاعت پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکے اور تمام شہریوں کو ریاستی زیر کنٹرول پلیٹ فارمز پر منتقل کر دیا جائے۔

ستمبر سے روس میں فروخت ہونے والے فونز اور ٹیبلٹس میں یہ ایپ پہلے سے انسٹال شدہ آتی ہے۔ میکس کو ان ڈیجیٹل سروسز کی وائٹ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے جو انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے دوران بھی فعال رہتی ہیں۔ یہ ایپ فی الحال روس، بیلاروس اور روس کے دوست سمجھے جانے والے 40 ممالک کے صارفین کے لیے دستیاب ہے، جبکہ یورپی یونین اور یوکرین میں اس تک رسائی ممکن نہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس پلیٹ فارم میں نقب لگانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ روس کا ماننا ہے کہ ٹیلی گرام کا استعمال یوکرین کی جانب سے تخریبی کارروائیوں کے لیے کیا جا رہا ہے۔

روس کے اندر عوام کی رائے تقسیم ہے۔ کچھ صارفین اسے سہولت قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ انہیں اسکولوں، سرکاری پورٹلز اور دفتری امور کے لیے اسے استعمال کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تجزیاتی ادارے جی آر ایف این کے بانی دمتری زاخارچینکو نے اس مہم کو سوویت دور کے پروپیگنڈے سے تشبیہ دی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ تک اس ایپ کے صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ میکس کے قواعد و ضوابط کے مطابق صارفین کا ڈیٹا صرف روس میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال پر بعض شہری تحفظات کا شکار ہیں اور متبادل ایپس کا رخ کر رہے ہیں، تاہم بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ان کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -