پاکستان، ترکی اور مصر امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پس پردہ سفارت کاری میں مصروف عمل ہیں۔ پیر کے روز سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان تینوں ممالک کی جانب سے جاری خاموش رابطے دونوں فریقین کے درمیان خلیج کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
حکام کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان رابطوں کے لیے اسلام آباد، انقرہ اور قاہرہ ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد علاقائی تعاون کے ذریعے تناؤ میں اضافے کو روکنا ہے۔
یہ ثالثی کوشش محض بحران کے انتظام تک محدود نہیں بلکہ اس کے ٹھوس نتائج برآمد ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پائیدار حل کے لیے پیش رفت ہوئی ہے۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس پر فوجی حملے پانچ روز کے لیے ملتوی کرنے کا حکم دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ دو روز کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔
تاہم ایران نے گزشتہ 24 روز کے دوران امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق انہیں دوست ممالک کی جانب سے پیغامات ضرور موصول ہوئے ہیں جن میں امریکہ کی جانب سے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا، لیکن تہران نے ان پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
پاکستان کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اپنی منفرد سفارتی پوزیشن کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک علاقائی استحکام پیدا کرنے والے ملک کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے کو تصادم سے مذاکرات کی طرف لایا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ کا تنازع اب اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس جنگ کا آغاز امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے ہوا تھا، جس کے بعد تنازع پورے خطے میں پھیل گیا۔ ان حملوں کے پہلے روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔
جنگ کے دوران خلیجی ممالک بھی حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ تہران نے ان ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کچھ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم دیگر حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
