-Advertisement-

بوائز ٹاؤن کے بانی فادر فلاناگن کی سینٹ ہڈ (مقدس درجہ) کے حصول کی جانب پیش قدمی

تازہ ترین

مشکوک سٹے بازی پر تنقید کے بعد پریڈکشن مارکیٹ پلیٹ فارم نے اندرونی تجارت کے خلاف سخت اقدامات کر دیے

پریڈکشن مارکیٹ پلیٹ فارم پولی مارکیٹ نے پلیٹ فارم پر انسائیڈر ٹریڈنگ کے خاتمے کے لیے اپنے ضوابط میں...
-Advertisement-

پوپ لیو چہار دہم نے بوائز ٹاؤن کے بانی فادر ایڈورڈ جوزف فلاناگن کی جانب سے زندگی بھر انجام دی گئی خدمات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے انہیں تقدیس کے عمل کے ایک اور اہم مرحلے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ ویٹیکن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق فادر فلاناگن کی زندگی کو ہیروئک ورچوز یعنی بہادرانہ اوصاف کا حامل قرار دیا گیا ہے جس کے بعد اب انہیں باضابطہ طور پر قابل تعظیم شخصیت کا درجہ مل گیا ہے۔

اوماہا کے آرچ بشپ مائیکل میک گورن نے اس فیصلے پر گہری خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ فادر فلاناگن جلد ہی بیٹیفیکیشن کے مراحل سے گزر کر حتمی طور پر سینٹ کا درجہ حاصل کر لیں۔ آرچ بشپ نے زور دیا کہ ہمیں غریبوں اور پسماندہ افراد کی خدمت کے ذریعے انسانی وقار کو بلند کرنے کے مشن کو جاری رکھنا چاہیے۔

آئرلینڈ میں 1886 میں پیدا ہونے والے فادر فلاناگن 1904 میں امریکہ منتقل ہوئے اور 1913 میں اوماہا کے ڈائیوسیز میں اپنی مذہبی خدمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے بے گھر افراد کے مسائل کو قریب سے دیکھا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ معاشرتی مسائل کی جڑیں ٹوٹے ہوئے گھرانوں اور والدین کی غفلت میں پیوست ہیں۔

فادر فلاناگن نے 1917 میں اوماہا میں لڑکوں کے لیے اپنا پہلا مرکز قائم کیا اور 1921 میں ایک زرعی زمین خرید کر اسے بوائز ٹاؤن کی شکل دی۔ 1930 کی دہائی تک یہ ادارہ ایک باقاعدہ قصبے کی حیثیت اختیار کر گیا جہاں لڑکوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل تھا۔ فادر فلاناگن کا مشہور قول ہے کہ کوئی بھی بچہ برا نہیں ہوتا بلکہ یہ برا ماحول اور بری تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ان کی خدمات پر 1938 میں ایک فلم بوائز ٹاؤن بھی بنائی گئی جس میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار اسپینسر ٹریسی کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فادر فلاناگن 1948 میں 61 برس کی عمر میں جرمنی کے دورے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔

ویٹیکن کے محکمہ برائے اسباب تقدیس نے فادر فلاناگن کی زندگی اور تحریروں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا ہے۔ تقدیس کے اگلے مرحلے یعنی بیٹیفیکیشن کے لیے کسی ایسے معجزے کی تصدیق ضروری ہے جو فادر فلاناگن کے واسطے سے دعا کرنے سے رونما ہوا ہو۔ اس کے بعد حتمی کینونائزیشن کے لیے دوسرے معجزے کی ضرورت ہوگی۔ تاہم پوپ کے پاس یہ اختیار موجود ہوتا ہے کہ وہ خصوصی حالات میں معجزے کی شرط کو نظر انداز کر سکیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -