-Advertisement-

ٹرمپ کی پیشکش کے بعد امریکہ کا ثالثوں کے ذریعے ایران کو پیغام، مذاکرات کا امکان

تازہ ترین

پاکستان تنازعات کے پرامن حل کے لیے ہر اقدام کی حمایت جاری رکھے گا: عاصم افتخار

نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے پیر کے روز کہا ہے کہ...
-Advertisement-

ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے بالواسطہ رابطوں کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو تصدیق کی ہے کہ تہران کو ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن سے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران امریکہ اور ایران کے مابین دشمنی کے مکمل خاتمے کے حوالے سے مفید بات چیت ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک کے مابین 15 نکات پر اتفاق پایا گیا ہے اور انہیں امید ہے کہ جلد کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے گا۔

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کو دی گئی دھمکی کو بھی پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے توانائی کے مراکز پر حملے کا فیصلہ جاری مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی بہتری آئی ہے۔

امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ وہ ایران کی کسی اعلیٰ شخصیت سے رابطے میں ہیں تاہم سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہوں نے اس شخصیت کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس بات پر رضامند ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ماضی میں جوہری پروگرام پر امریکی مطالبات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

ایران اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث یہ بات چیت ثالث ممالک کے ذریعے ہو رہی ہے۔ پاکستان اور عمان کو اس تنازع میں ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی شمولیت کے حوالے سے تاحال کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -