-Advertisement-

اسرائیلی وزیر کا جنوبی لبنان کے علاقوں پر قبضے کا مطالبہ

تازہ ترین

عالمی برادری نے اسرائیل کو فلسطینیوں پر تشدد کا لائسنس دے دیا ہے: اقوام متحدہ کی ماہر

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال...
-Advertisement-

اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے لبنان کے جنوبی علاقے پر قبضے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی سرحد دریائے لیتانی تک بڑھا دینی چاہیے۔ یہ کسی بھی اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کی جانب سے لبنانی علاقے پر قبضے کا اب تک کا سب سے واضح بیان ہے۔

پیر کے روز ایک ریڈیو پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سموٹریچ نے کہا کہ لبنان میں جاری فوجی مہم کا اختتام ایک بالکل مختلف حقیقت پر ہونا چاہیے جس میں اسرائیل کی سرحدوں میں تبدیلی شامل ہو۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نئی اسرائیلی سرحد دریائے لیتانی ہونی چاہیے۔

اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے بہانے شدید بمباری کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں پل تباہ اور رہائشی مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دس لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہونے پر مجبور ہیں۔

پیر کی رات بیروت کے علاقے ضاحیہ میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکے سنے گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اس سے قبل ہونے والے ایک حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا ایک کمانڈر بھی ہلاک ہوا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی جنگجوؤں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں۔ تاہم، بین الاقوامی قانون کے تحت شہری انفراسٹرکچر پر حملے ممنوع ہیں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے بھی اسرائیل کی جانب سے بڑے پیمانے پر انخلا کے احکامات اور تباہی پر تنقید کی ہے۔

لبنان کے سرحدی قصبے رمیش کے میئر ہانا امیل نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خوراک اور ضروری اشیاء کی ترسیل مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی، پانی اور ایندھن کی شدید قلت ہے اور اگر شمال کی جانب جانے والے تمام راستے بند ہو گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے سموٹریچ کے بیان پر کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم وزیر دفاع اسرائیل کاٹز پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر حزب اللہ کو غیر مسلح نہ کیا گیا تو لبنان کو اپنے علاقے سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ لبنانی حکومت نے حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -