بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں واقع جموں یونیورسٹی کی ایک کمیٹی نے ایم اے پولیٹیکل سائنس کے نصاب سے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور ممتاز ماہر تعلیم سر سید احمد خان سے متعلق موضوعات کو حذف کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام یونیورسٹی کیمپس میں ہندو انتہا پسند طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے شدید احتجاج کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
اے بی وی پی، جو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی سرپرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا طلبہ ونگ ہے، نے نصاب میں قائداعظم کے سیاسی افکار پر مبنی چیپٹر شامل کیے جانے پر جمعہ کو یونیورسٹی میں مظاہرے کیے تھے۔
یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کے پروفیسر نریش پدھا کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے یہ سفارشات بورڈ آف اسٹڈیز کو ارسال کر دی ہیں جس کا اجلاس منگل کو طلب کیا گیا ہے تاکہ معاملے پر حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
مقبوضہ کشمیر میں اے بی وی پی کے ریاستی سیکرٹری سنک شریواتس، جنہوں نے احتجاج کی قیادت کی تھی، کا دعویٰ ہے کہ نصاب میں قائداعظم کو اقلیتوں کے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے سربراہ بلجیت سنگھ مان کا موقف ہے کہ نصاب میں ان شخصیات کی شمولیت بھارتی یونیورسٹیوں کے مروجہ نصاب اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ضوابط کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلاوجہ تنازع کھڑا کیا جا رہا ہے اور یونیورسٹی کسی خاص نظریے کی ترویج نہیں بلکہ تنقیدی جائزے کے لیے مختلف نقطہ ہائے نظر پیش کرتی ہے۔
