-Advertisement-

ایران جنگ اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرمپ کی مقبولیت 36 فیصد کی نچلی سطح پر

تازہ ترین

پاکستان اور افغانستان کے علماء کا عید الاضحیٰ تک جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ

اسلام آباد سے پاکستان اور افغانستان کے علماء پر مشتمل ایک گروپ نے دونوں ممالک کی قیادت سے مطالبہ...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اپنے نچلے ترین درجے پر پہنچ گئی ہے۔ رائٹرز اور ایپوس کے تازہ ترین سروے کے مطابق ایران کے خلاف جنگ اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث امریکی عوام کی بڑی تعداد صدر کی کارکردگی سے غیر مطمئن نظر آتی ہے۔ پیر کے روز مکمل ہونے والے چار روزہ سروے میں صرف 36 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی کارکردگی کو سراہا، جبکہ گزشتہ ہفتے یہ شرح 40 فیصد تھی۔

مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ صرف 25 فیصد شرکاء نے اس حوالے سے ان کی پالیسیوں کو درست قرار دیا، جو کہ ان کی 2024 کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ تھا۔ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد سے ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جس نے عوامی غیض و غضب میں اضافہ کیا ہے۔

اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی میں ٹرمپ کی پوزیشن اب بھی کسی حد تک مستحکم ہے، تاہم یہاں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی سے نمٹنے کے حوالے سے ان کی کارکردگی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے والے ریپبلکنز کی شرح گزشتہ ہفتے کے 27 فیصد سے بڑھ کر 34 فیصد ہو گئی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر بھی امریکی عوام کی رائے منفی ہوتی جا رہی ہے۔ سروے کے مطابق 61 فیصد امریکی ان حملوں کے مخالف ہیں، جبکہ صرف 35 فیصد نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔ یاد رہے کہ اقتدار سنبھالتے وقت ٹرمپ نے غیر ضروری جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا، جس سے انحراف ان کی مقبولیت میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ مانا جا رہا ہے۔

سروے میں شامل 1272 امریکی شہریوں کی رائے کے مطابق اگرچہ صدر کی مقبولیت کم ہوئی ہے، تاہم اس کا اثر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر تاحال واضح نہیں ہے۔ معاشی امور کو سنبھالنے کے حوالے سے 38 فیصد ووٹرز نے ریپبلکنز پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ 34 فیصد نے ڈیموکریٹس کو ترجیح دی۔ اس سروے میں غلطی کا امکان 3 فیصد تک بتایا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -