فرانس کے ایک قرونِ وسطیٰ کے ہسپتال کے بیت الخلا سے ملنے والا چھ سو سال پرانا انگور کا بیج سائنسی تحقیق کے بعد عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیج جینیاتی طور پر بالکل وہی ہے جو آج کل مشہور زمانہ پینو نوار وائن کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
تحقیقی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ فرانس میں اس انگور کی کاشت کم از کم چودہویں صدی سے کی جا رہی ہے۔ محققین لوران بوبی کا کہنا ہے کہ اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ اس دور میں یہ انگور بطور پھل کھائے جاتے تھے یا ان سے شراب کشید کی جاتی تھی۔
یونیورسٹی آف ٹولوز کے ماہر پیلیوجینیٹسٹ لوڈوویک اورلینڈو نے بتایا کہ یہ بیج شمالی فرانس کے شہر ویلینسینز کے ایک ہسپتال سے ملا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور میں بیت الخلا کو اکثر کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس دور کی معروف شخصیت ژین آف آرک بھی عین ممکن ہے کہ وہی انگور کھاتی ہوں جو آج ہم استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں کانسی کے دور یعنی 2300 قبل مسیح سے لے کر قرونِ وسطیٰ تک کے 54 انگور کے بیجوں کے جینوم کا تجزیہ کیا گیا۔ اس سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ قدیم کاشتکار چھ صدیوں سے کلونل پروپیگیشن جیسی تکنیک استعمال کر رہے ہیں جس کے ذریعے مخصوص اقسام کو نسل در نسل محفوظ رکھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم یونانیوں نے مارسیلز شہر کی بنیاد رکھنے کے بعد فرانس میں انگور کی کاشت متعارف کرائی تھی۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رومن دور میں اسپین، بلقان، قفقاز اور مشرقِ وسطیٰ سے انگور کی اقسام کا تبادلہ ہوتا رہا تھا۔
فرانس آج بھی دنیا بھر میں وائن پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور یہ صنعت ملکی معیشت اور ثقافتی ورثے کا اہم ستون ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید گرمی کے باعث فرانسیسی وائن انڈسٹری کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس سے اس قدیم ورثے کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
