-Advertisement-

امریکہ اور ایران کے درمیان کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوئے، ایرانی سفیر

تازہ ترین

میکائیلا شیفرن نے چھٹی بار ورلڈ کپ اسکیئنگ کا ٹائٹل جیت کر ریکارڈ برابر کر دیا

امریکی اسکیئر میکیلا شیفرین نے ناروے میں جاری سیزن کی آخری ریس میں جرمن حریف ایما آئیچر کو شکست...
-Advertisement-

ایران کے سفیر برائے پاکستان رضا امیری مقدم نے بدھ کے روز واضح کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعووں کو مسترد کر دیا جن میں انہوں نے تنازع کے خاتمے کے لیے پیش رفت کا عندیہ دیا تھا۔ سفیر نے میڈیا رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے مابین نہ تو براہ راست اور نہ ہی بالواسطہ کوئی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوست ممالک کا کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کرنا فطری عمل ہے۔

ایرانی فوج نے بھی امریکی سفارتی دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقار نے سرکاری میڈیا کے ذریعے کہا کہ امریکہ درحقیقت خود سے ہی مذاکرات کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں استحکام کا دارومدار ایران کے عسکری موقف پر ہے اور جب تک واشنگٹن اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا، جنگ سے قبل کے معاشی حالات کی واپسی ممکن نہیں ہے۔

علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب بدھ کی صبح ایران نے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملوں کا ہدف اسرائیل کے علاوہ کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی تنصیبات تھیں۔ اسرائیل کے وسطی شہروں میں سائرن بج اٹھے، جبکہ کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے سے فیول ٹینک میں آگ لگ گئی۔ اردن میں ملبہ گرنے کی اطلاعات ہیں جبکہ بحرین نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو الرٹ کر دیا ہے۔

یہ تنازع جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوا تھا، اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکا ہے۔ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک بڑا تحفہ پیش کیا گیا ہے۔ تاہم تہران کی جانب سے ان دعووں کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ مبینہ طور پر واشنگٹن پاکستان جیسے ثالثوں کے ذریعے پس پردہ سفارتکاری کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی امریکی فوج کی جانب سے خطے میں مزید دستے تعینات کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔

اس کشیدگی کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کے جین میری پوگم نے خبردار کیا ہے کہ اگر کھاد کی سپلائی میں تعطل برقرار رہا تو اس کے اثرات مستقبل کی زرعی پیداوار اور عالمی غذائی تحفظ پر مرتب ہوں گے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -