-Advertisement-

یوکرین پر روسی حملے کے دوران ڈرونز کا نیٹو رکن ممالک ایستونیا اور لٹویا کی حدود میں داخلہ

تازہ ترین

ترکیہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کردار ادا کر رہا ہے، حکومتی عہدیدار

استنبول میں حکمران جماعت کے نائب چیئرمین برائے امور خارجہ ہارون ارماگان نے کہا ہے کہ ترکیہ ایران اور...
-Advertisement-

کیف میں نیٹو کے رکن ممالک ایسٹونیا اور لٹویا نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کی صبح روسی ڈرونز ان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ یہ واقعہ یوکرین پر روس کے حالیہ بڑے فضائی حملوں کے فوراً بعد پیش آیا ہے جو ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے چار سال قبل شروع کی گئی جنگ کے بعد سے اب تک کے شدید ترین حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

ایسٹونیا کی داخلی سیکیورٹی سروس کے مطابق ایک روسی ڈرون سرحد عبور کر کے ملک میں داخل ہوا اور ایک پاور اسٹیشن کی چمنی سے جا ٹکرایا۔ اسی دوران لٹویا کی مسلح افواج نے بھی اطلاع دی کہ ایک روسی ڈرون ان کی حدود میں گرا ہے تاہم اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

نیٹو اتحاد کے مطابق رواں سال کے دوران روسی طیاروں کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کے 18 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جو 2024 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان دراندازیوں کو روس کی جارحیت میں اضافے سے تعبیر کرتے ہوئے یورپی شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مستحکم کریں۔

یہ واقعات یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر ہونے والے فضائی حملوں کے بعد پیش آئے۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق پیر کی شام سے اب تک روس نے تقریباً ایک ہزار ڈرونز کا استعمال کیا ہے، جن میں سے 550 سے زائد ڈرونز منگل کی سہ پہر صرف مغربی علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے۔

لیویو شہر میں ایرانی ساختہ شاہد ڈرون کے ایک عمارت سے ٹکرانے کی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جبکہ ایک اور ڈرون حملے میں 22 افراد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ایوانو فرانکیوسک میں ایک میٹرنٹی ہسپتال کو بھی نقصان پہنچا۔

یوکرین کے وزیر خارجہ آندرے سیبیہا نے روسی حملوں کا موازنہ ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں کیے جانے والے حملوں سے کرتے ہوئے کہا کہ روس ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے اور اس کا مقابلہ کمزوری کے بجائے طاقت سے کیا جانا چاہیے۔

صدر زیلنسکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی نے روس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پیوٹن کی بڑھتی ہوئی جارحیت نہ صرف یوکرین بلکہ پورے یورپ کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے اور عالمی سطح پر روس پر مزید دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -