-Advertisement-

تہران کی امریکی پیشکش مسترد، وائٹ ہاؤس کا ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ

تازہ ترین

جنگ بندی کے دعووں کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 700 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے تمام تر دعووں کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین...
-Advertisement-

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بدھ کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا عمل تاحال جاری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ امن معاہدے کو قبول نہ کیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت ترین کارروائی کریں گے۔

لیوٹ نے ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے واشنگٹن کے امن منصوبے کو مسترد کیے جانے کی خبروں کے باوجود کہا کہ مذاکرات کا عمل نتیجہ خیز ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ پندرہ نکاتی منصوبے سے متعلق میڈیا میں آنے والی تفصیلات میں کچھ حقائق موجود ہیں۔

پریس سیکریٹری نے واضح کیا کہ اگر ایران نے موجودہ زمینی حقائق کو تسلیم نہ کیا اور یہ نہ سمجھا کہ وہ عسکری طور پر شکست کھا چکا ہے، تو صدر ٹرمپ انہیں ایسی سزا دیں گے جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صدر ٹرمپ دھمکیاں نہیں دیتے اور وہ ایران کے خلاف سخت ترین کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ تہران نے ایک ثالث کے ذریعے بھیجے گئے امریکی مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکی انتظامیہ کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خود سے مذاکرات کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق فوج کی 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے اہلکاروں اور جدید عسکری ساز و سامان کو خطے میں بھیجا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب وہ خطے میں جاری تنازع کو پہلے ہی جیتی ہوئی جنگ قرار دے چکے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -