-Advertisement-

آبنائے ہرمز کی بندش: ایران کا یوکرینی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ

تازہ ترین

جنگ بندی کے دعووں کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 700 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے تمام تر دعووں کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین...
-Advertisement-

دبئی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی سے دستبردار ہونے کے بعد، آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ یہ اہم تجارتی راستہ تہران کی اجازت کے بغیر بحری جہازوں کے لیے عملی طور پر بند ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس الجھن کا شکار ہیں کہ تیل اور دیگر اہم اشیاء کی ترسیل کو کیسے بحال کیا جائے، جبکہ خطے میں اضافی امریکی فوج کی تعیناتی کے باوجود یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کوئی عسکری طاقت اس مشن کو مکمل کر سکتی ہے۔

یوکرین میں گزشتہ چار برس سے جاری جنگ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی نظر آتی ہے۔ سن 2022 میں جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو یوکرین کی بحری طاقت روس کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم کیف نے جدید حکمت عملی سے دنیا کی طاقتور ترین بحری افواج میں سے ایک کو پسپا کر دیا۔ یوکرین نے سمندری اور فضائی ڈرونز اور زمینی میزائلوں کے ذریعے روسی بحری جہازوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اپریل 2022 میں یوکرین نے اپنے مقامی میزائلوں سے روسی بیڑے کے فلیگ شپ ماسکووا کو غرق کر دیا تھا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے چیف فارن افیئرز نامہ نگار یاروسلاو ٹروفیموف کے مطابق یوکرین کے پاس روایتی بحریہ موجود نہیں، اس کے باوجود اس نے روسی بحری بیڑے کو بحیرہ اسود کے مغربی حصے میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔ یوکرین کی کارروائیوں کے نتیجے میں روس کی اناج کی برآمدات میں نصف سے زائد کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین نے سمندر پر مکمل کنٹرول تو حاصل نہیں کیا، لیکن اسے روس کے لیے انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔

ایران بظاہر آبنائے ہرمز کے معاملے پر یوکرین کی حکمت عملی کی پیروی کر رہا ہے۔ امریکی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ جدید دور کی غیر روایتی جنگ میں بڑے اور مہنگے بحری جہاز سستے اور بغیر پائلٹ کے ہتھیاروں کے لیے آسان ہدف بن چکے ہیں۔ ٹروفیموف کا کہنا ہے کہ جدید بحری جنگ اب بغیر پائلٹ کے نظام کے گرد گھومتی ہے۔ ایران یوکرین جنگ کے اسباق کو انتہائی باریک بینی سے دیکھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق چھوٹے ڈرونز روایتی ہتھیاروں سے روکنا مشکل ہے اور اگرچہ ان کا وار ہیڈ چھوٹا ہوتا ہے، لیکن یہ بحری جہازوں کو اندھا کرنے کے لیے کافی ہے۔ ماضی میں 1987-88 کی ٹینکر جنگ کے دوران امریکی بحریہ ٹینکروں کو تحفظ فراہم کرتی تھی، لیکن آج کے دور میں ڈرونز کے خلاف یہ حکمت عملی غیر مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے مطالبات نے اسے ایک نجی ٹول پلازہ جیسی حیثیت دے دی ہے، جسے امریکہ اور خلیجی ممالک قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے 20 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، تاہم آبنائے کی بندش کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے بظاہر ایران معاشی محاذ پر برتری حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -