-Advertisement-

ایکواڈور میں امریکی دہشت گردی کی فہرست میں شامل حزب اللہ کا مبینہ رکن گرفتار

تازہ ترین

پاکستان کا امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا باضابطہ اعتراف، اسحاق ڈار کی تصدیق

پاکستان نے سرکاری طور پر تصدیق کی ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ثالث...
-Advertisement-

ایکواڈور کی سیکیورٹی فورسز نے ایران کے حمایت یافتہ عسکری گروپ حزب اللہ سے مبینہ تعلق رکھنے والے ایک شامی شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس شخص کو دہشت گردی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

ایکواڈور کے وزیر داخلہ جان ریمبرگ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ یہ گرفتاری امیگریشن حکام اور قومی پولیس کے انٹیلی جنس ونگ کے مشترکہ آپریشن کے دوران عمل میں آئی۔ ملزم کی شناخت صرف ایم کے کے نام سے کی گئی ہے اور وہ بغیر کسی قانونی دستاویز کے ملک میں داخل ہوا تھا۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ملزم کو ملک بدر کرنے کے قانونی عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ شخص ایکواڈور کے حکام کے لیے نیا نہیں ہے، اسے سن 2005 میں بھی منشیات سمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کی قیادت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ نیٹ ورک مبینہ طور پر حزب اللہ کے لیے لاکھوں ڈالر کی ترسیل میں ملوث تھا۔

ملزم کو سن 2012 میں عارضی رہائی ملی تھی۔ وزیر داخلہ جان ریمبرگ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ صدر ڈینیل نوبوا کی حکومت کسی بھی بین الاقوامی دہشت گرد گروپ کو ملک میں سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔

صدر ڈینیل نوبوا نے گزشتہ برس ایک صدارتی فرمان کے ذریعے حزب اللہ اور حماس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ صدر کا موقف ہے کہ یہ گروہ ایکواڈور میں سرگرم منشیات فروش گینگز کو مشورے فراہم کرتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایکواڈور کی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے منشیات کے کارٹلز کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔ حال ہی میں دونوں ممالک نے 17 ملکی اتحاد کے تحت مشترکہ آپریشنز کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد منظم جرائم کا خاتمہ کرنا ہے۔

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے بھی ایکواڈور میں اپنا دفتر کھولنے کا اعلان کیا ہے تاکہ مقامی پولیس کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کی تحقیقات کی جا سکیں۔ صدر نوبوا گزشتہ دو برسوں سے کوکین سمگلروں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاہم ملک میں قتل، اغوا اور بھتہ خوری کے واقعات تاحال ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -