-Advertisement-

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی جانب سے ٹرانس جینڈر خواتین کھلاڑیوں پر اولمپک مقابلوں میں شرکت پر پابندی عائد

تازہ ترین

بہاماس کے سمندری شارک مچھلیوں میں کوکین اور کیفین کے اثرات پائے گئے، تحقیق

بہاماس کے ساحلی علاقوں میں سمندری حیات پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق نے سائنسدانوں کو تشویش میں...
-Advertisement-

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ٹرانس جینڈر خواتین کھلاڑیوں کو اولمپک کھیلوں کے خواتین مقابلوں میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سال 2028 میں لاس اینجلس میں ہونے والے اولمپک کھیلوں سے قبل سامنے آیا ہے اور یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کھیلوں سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر سے مطابقت رکھتا ہے۔

کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ دستاویز کے مطابق اولمپک مقابلوں یا کسی بھی دیگر آئی او سی ایونٹ میں خواتین کی کیٹیگری صرف حیاتیاتی خواتین تک محدود رہے گی۔ اس اہلیت کا تعین ایک لازمی جینیاتی ٹیسٹ کے ذریعے کیا جائے گا جو ہر کھلاڑی کو اپنے کیریئر میں ایک بار کروانا ہوگا۔

آئی او سی کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی خواتین کے مقابلوں میں شفافیت، تحفظ اور سالمیت کو یقینی بناتی ہے۔ یہ ضوابط 2028 کے اولمپک کھیلوں سے لاگو ہوں گے اور ان کا اطلاق ماضی کے مقابلوں یا نچلی سطح کے تفریحی کھیلوں پر نہیں ہوگا۔

اس نئی پالیسی کے تحت ان خواتین کھلاڑیوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جو ڈی ایس ڈی یعنی صنفی نشوونما میں فرق جیسی طبی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ان میں دو بار کی اولمپک چیمپئن رنر کاسٹر سیمینیا جیسی کھلاڑی بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

اولمپک کمیٹی کی صدر کرسٹی کوونٹری نے کہا ہے کہ اولمپک کھیلوں میں معمولی فرق ہی جیت اور ہار کا فیصلہ کرتا ہے، اس لیے حیاتیاتی مردوں کا خواتین کی کیٹیگری میں حصہ لینا غیر منصفانہ ہے۔ کمیٹی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ مردانہ بلوغت کے دوران حاصل ہونے والی جسمانی برتری طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے جو طاقت اور برداشت پر مبنی کھیلوں میں نمایاں فرق پیدا کرتی ہے۔

جینیاتی جانچ کے لیے ایس آر وائی جین کا ٹیسٹ کیا جائے گا جو وائی کروموسوم پر پایا جاتا ہے اور مردانہ صنفی نشوونما کی نشاندہی کرتا ہے۔ آئی او سی کے مطابق یہ طریقہ کار فی الحال دستیاب سب سے درست اور کم مداخلت والا ذریعہ ہے۔

یاد رہے کہ پیرس اولمپک 2024 میں کسی بھی ایسی خاتون کھلاڑی نے حصہ نہیں لیا جو مرد کے طور پر پیدا ہوئی تھی۔ تاہم ٹوکیو اولمپکس 2021 میں ویٹ لفٹر لورل ہبڈ نے شرکت کی تھی لیکن وہ کوئی میڈل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال فروری میں کھیلوں میں مردوں کی شمولیت روکنے کے حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔ اس حکمنامے میں ان تنظیموں کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی جو ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خواتین کے کھیلوں میں شرکت کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے بعد امریکی اولمپک باڈی نے بھی وائٹ ہاؤس کے احکامات کے مطابق اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کر لی تھی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -