-Advertisement-

بہاماس کے سمندری شارک مچھلیوں میں کوکین اور کیفین کے اثرات پائے گئے، تحقیق

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ‘مایوس کن’ معاہدے کی کوششوں سے انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے بے تاب ہونے کی...
-Advertisement-

بہاماس کے ساحلی علاقوں میں سمندری حیات پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سمندری حیات کے ماہرین کی جانب سے کیے گئے مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ بہاماس کے سمندروں میں پائی جانے والی شارک مچھلیوں کے خون میں کیفین، درد کش ادویات اور کوکین جیسے منشیات کے اثرات پائے گئے ہیں۔ یہ تحقیق شارک کی صحت اور ان کے قدرتی رویوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

تحقیقی ٹیم نے ایک دور افتادہ جزیرے کے قریب سے پانچ مختلف اقسام کی پچاسی شارک مچھلیوں کے خون کے نمونے حاصل کیے۔ ان نمونوں کا لیبارٹری میں چوبیس مختلف قانونی اور غیر قانونی نشہ آور اشیاء کے حوالے سے تجزیہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق اٹھائیس شارک مچھلیوں کے خون میں کیفین، عام استعمال ہونے والی سوزش کش ادویات اور ایک شارک میں کوکین کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ کئی مچھلیوں میں ایک سے زائد مضر اجزاء پائے گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندروں میں ادویات اور منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ تشویشناک ہے۔ خاص طور پر وہ علاقے جہاں تیزی سے شہری کاری اور سیاحت میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں سمندری حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بہاماس میں شارک پر ہونے والی یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے۔

برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف پارانا کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اس تحقیق کی سربراہ نتاشا ووسنک کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوکین کی موجودگی فوری توجہ حاصل کرتی ہے، لیکن کیفین اور دیگر عام ادویات کی بڑی مقدار میں موجودگی زیادہ تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق یہ قانونی اور عام استعمال کی اشیاء ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، مگر ان کے ماحولیاتی اثرات واضح ہیں۔

تحقیقی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آلودہ خون والی شارک کے میٹابولک مارکرز میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جن کا تعلق تناؤ اور جسمانی افعال سے ہے۔ ماہرین کا خدشہ ہے کہ یہ تبدیلیاں شارک کی آبادی کی صحت اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

اس سے قبل سن دو ہزار تیئس میں ایک دستاویزی پروگرام کے دوران بھی شارک کے رویوں پر تجربات کیے گئے تھے، جس میں کچھ مچھلیوں کے غیر معمولی رویے دیکھے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دو ہزار چوبیس میں برازیل کے ساحل پر کی گئی ایک الگ تحقیق میں بھی شارک کے جگر اور پٹھوں میں کوکین کے اعلیٰ ارتکاز کی تصدیق ہوئی تھی۔ سائنسدانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سمندری آلودگی کے اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -