امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے بے تاب ہونے کی خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ معاہدے کے لیے پرجوش نہیں ہیں اور انہیں اس معاملے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدے کے لیے منتیں کر رہا ہے کیونکہ وہ عسکری دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے تعاون نہ کیا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب تہران کی جانب سے براہ راست مذاکرات کے کسی بھی امکان کو مسلسل مسترد کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والے آپریشن کے بعد سے پیش رفت توقعات سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز گزرنے کی اجازت دے کر مذاکرات میں سنجیدگی کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا اب بھی ان کے آپشنز میں شامل ہے۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی ایکشن لسٹ بھجوائی ہے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے معاملے پر نیٹو اور دیگر اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا نے ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا جس کا انہیں بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک ایک دن کا وقت بہت طویل ہوتا ہے، اس لیے وہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔
اجلاس کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ وہ معاہدے کے لیے دعاگو ہیں لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، محکمہ جنگ بموں کے ذریعے مذاکرات کا عمل جاری رکھے گا۔ اسی دوران امریکی سفارت کار مارکو روبیو نے بھی ایران کے خلاف جارحانہ موقف اپناتے ہوئے کہا کہ امریکی عسکری طاقت ہر گزرتے دن کے ساتھ ایران پر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔
