امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ رواں موسم گرما سے امریکی کرنسی نوٹوں پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط ثبت کیے جائیں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی برسرِ اقتدار امریکی صدر ملکی کرنسی پر اپنے دستخط ثبت کرے گا۔
نئے ڈیزائن کردہ نوٹوں کا اجرا امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی 165 برسوں میں پہلی بار امریکی ٹریژرار کے دستخط نوٹوں سے ہٹا دیے جائیں گے، جو اب تک وفاقی کرنسی کا لازمی حصہ رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے دستخطوں کے حامل 100 ڈالر کے پہلے نوٹوں کی چھپائی جون میں شروع ہوگی، جس کے بعد دیگر مالیت کے نوٹوں کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے گا۔ بینکوں کے ذریعے ان نوٹوں کی مارکیٹ میں آمد میں کچھ ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔
فی الحال امریکی ٹریژری سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دور میں تعینات وزیر خزانہ جینیٹ ییلن اور سابق ٹریژرار لن میلربا کے دستخطوں والے نوٹ چھاپ رہی ہے۔ لن میلربا ان ٹریژرارز کی طویل فہرست میں آخری نام ہیں جن کے دستخط 1861 سے امریکی کرنسی پر موجود رہے ہیں۔
وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس اقدام کو ملکی تاریخ کی 250 ویں سالگرہ کے حوالے سے موزوں قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دوران معاشی ترقی اور استحکام کو تسلیم کرنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا کہ امریکی ڈالر پر ان کا نام درج ہو۔
امریکی قوانین کے تحت کرنسی کے ڈیزائن میں تبدیلی کا اختیار محکمہ خزانہ کے پاس ہے تاکہ جعلی نوٹوں کی روک تھام کی جا سکے۔ تاہم نئے ڈیزائن میں نوٹ کی مجموعی ہیئت برقرار رہے گی اور صرف ٹریژرار کے دستخطوں کی جگہ صدر کے دستخط شامل ہوں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کو صدر کا نام سرکاری عمارتوں، اداروں، پروگراموں اور جنگی بحری جہازوں پر ثبت کرنے کی کوششوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ کی جانب سے نامزد کردہ ایک وفاقی آرٹس پینل نے ان کی تصویر والے یادگاری سونے کے سکے کے ڈیزائن کی بھی منظوری دی ہے۔
اس معاملے پر سابق ٹریژرار جوویتا کرانزا نے کہا کہ یہ تبدیلی امریکی لچک اور آزاد معیشت کی مضبوطی کی علامت ہے۔ موجودہ ٹریژرار برینڈن بیچ نے بھی اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو معاشی احیاء کا معمار قرار دیا ہے۔
