امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے تزویراتی اہمیت کے حامل آئل ہب جزیرہ خارک پر زمینی فوج کے ذریعے قبضے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس جزیرے پر قبضہ تیزی سے ممکن ہے، تاہم یہ اقدام امریکی فوج کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے اور جنگ کے خاتمے کے بجائے اسے طول دے سکتا ہے۔
جزیرہ خارک خلیج فارس کے شمالی سرے پر ایرانی ساحل سے 16 میل اور آبنائے ہرمز سے تقریباً 300 میل شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ جزیرہ ایران کی 90 فیصد تیل کی برآمدات کو سنبھالتا ہے۔ اس کی گہری آبی گزرگاہیں ایسے بڑے آئل ٹینکروں کے لیے موزوں ہیں جو ایران کی اتھلی ساحلی پٹی تک نہیں پہنچ سکتے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس جزیرے پر قبضے سے امریکہ ایران کی توانائی کی تجارت کو بری طرح متاثر کر کے تہران کی معیشت پر شدید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جزیرے پر زمینی دستے بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔ رواں ماہ کے آخر تک میرینز کے دو دستوں کی خطے میں آمد متوقع ہے، جبکہ پینٹاگون ہزاروں کی تعداد میں ایئر بورن دستے بھی بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ گزشتہ وسط مارچ میں امریکی فورسز نے جزیرے پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور اب تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریٹک کے ماہرین ریان بروبسٹ اور کیمرون میک ملن کا کہنا ہے کہ جزیرہ خارک پر قبضہ جنگ کو فیصلہ کن موڑ دینے کے بجائے اسے مزید پھیلانے کا سبب بنے گا۔ ان کے مطابق امریکی فوجی وہاں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں رہیں گے، خاص طور پر چھوٹے لیکن مہلک ایف پی وی ڈرونز کا خطرہ رہے گا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران ان حملوں کی ویڈیوز جاری کر کے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق کمانڈر جوزف ووٹیل کا کہنا ہے کہ جزیرے پر قبضے کے لیے 800 سے 1000 فوجیوں کی ضرورت ہوگی، تاہم ان کی لاجسٹک سپورٹ اور حفاظت ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہوگا اور اس سے کسی خاص تزویراتی برتری کے حصول کا امکان کم ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ اس قبضے کے ذریعے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے اور مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں، لیکن تہران اس کے جواب میں ساحلی علاقوں سے مزید بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے، جس سے خطے میں جہاز رانی مزید خطرناک ہو جائے گی۔
