اوپن سورس ریسرچ گروپ بیلنگ کیٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے جنوبی شہر شیراز کے مضافاتی علاقوں میں امریکی ساختہ اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں گرائے جانے کے شواہد ملے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں بی ایل یو-91/بی نامی یہ بارودی سرنگیں دیکھی جا سکتی ہیں جو امریکی گیٹر اینٹی ٹینک مائن سسٹم کا حصہ ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ طیاروں کے ذریعے ٹونا مچھلی کے ڈبوں سے قدرے بڑے دھماکہ خیز پیکٹ گرائے گئے۔ حکام کے مطابق ان میں سے کچھ پیکٹ ایسے ہیں جو انسانی رابطے کے بعد دھماکے سے پھٹ گئے جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی ٹی وی نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان مشکوک اشیاء کو ہاتھ نہ لگائیں اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
بیلنگ کیٹ نے تین آزاد ہتھیاروں کے ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ یہ گولہ بارود امریکی ساختہ ہے اور صرف امریکہ کے پاس ہی گیٹر سکیٹریبل مائن سسٹم موجود ہے جو ان بی ایل یو-91/بی ڈیوائسز کا استعمال کرتا ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے کرائسز اینڈ آرمز ڈویژن کے سینیئر ایڈوائزر رچرڈ ویئر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ بارودی سرنگیں مقناطیسی فیلڈ میں خلل کے ذریعے گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں لیکن یہ کسی بھی قسم کی گاڑی یا انسانی حرکت سے خود بخود پھٹ سکتی ہیں۔ ان میں سیلف ڈسٹرکٹ کا فیچر بھی موجود ہے جو انہیں گرائے جانے کے گھنٹوں یا دنوں بعد بھی دھماکے کا سبب بنا سکتا ہے۔
رچرڈ ویئر کے مطابق اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں اقوام متحدہ کے اس کنونشن کے دائرہ کار میں نہیں آتیں جس کے تحت اینٹی پرسنل بارودی سرنگوں پر پابندی عائد ہے، تاہم ان کا استعمال عام شہریوں کے لیے شدید خطرات کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سن 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے امریکہ کی جانب سے ان بارودی سرنگوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے، اور اس طرح کے واقعات کے اثرات متاثرہ علاقوں پر برسوں تک برقرار رہتے ہیں۔
