-Advertisement-

ایران کو روسی حمایت: میدانِ جنگ میں تبدیلی کا امکان کم، تجزیہ کار

تازہ ترین

ورلڈ کپ: کوچ پوچیٹینو کی امریکی ٹیم کو دباؤ سے آزاد ہو کر کھیلنے کی ہدایت

امریکی فٹ بال ٹیم کے کوچ موری سیو پوچیٹینو نے اپنی ٹیم پر زور دیا ہے کہ وہ رواں...
-Advertisement-

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں روس، ایران کو محدود مگر اہم عسکری اور انٹیلی جنس معاونت فراہم کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں اور سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تعاون جاری ہے تاہم اس سے میدان جنگ میں توازن تبدیل ہونے کا امکان کم ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ ماسکو کے کردار کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس شاید ایران کی کچھ مدد کر رہا ہے۔ اسی طرح ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔

جزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق روس ممکنہ طور پر تہران کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کر رہا ہے جس میں امریکی بحری اور فضائی اثاثوں سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معلومات ماسکو کے لیانا سیٹلائٹ سسٹم سے حاصل کی جا رہی ہیں جو امریکی بحری بیڑوں کی نگرانی اور انہیں ہدف بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روس نے ایران کے خلائی پروگرام کو مستحکم کرنے میں بھی کردار ادا کیا ہے، جس کی واضح مثال 2022 میں خیام سیٹلائٹ کا اجراء ہے جو زمین کی ہائی ریزولیوشن تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق روس اپنی سیٹلائٹ معلومات کو ایرانی ڈیٹا کے ساتھ ملا کر تہران کی آگاہی میں اضافہ کر سکتا ہے۔

اس کے باوجود امریکی حکام نے ایران کی جانب سے امریکی اثاثوں پر حملوں کے دعووں کو مبالغہ آرائی قرار دیا ہے۔ واشنگٹن نے اپنی بحری افواج سے متعلق دیگر واقعات کی بھی تصدیق نہیں کی ہے۔

انٹیلی جنس کے علاوہ روس طویل عرصے سے ایران کو فضائی دفاعی نظام اور طیاروں سمیت عسکری سازوسامان فراہم کرتا رہا ہے۔ موجودہ تنازع کے بعد سے ماسکو تکنیکی معاونت اور پرزہ جات کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ تعاون دوطرفہ نوعیت کا ہے۔ سن 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے ایران نے روس کو ڈرونز اور گولہ بارود فراہم کر کے اپنے تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔ خاص طور پر ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں دونوں ممالک کا اشتراک نمایاں ہے۔

روس نے ایران کے تیار کردہ شاہد ڈرونز میں بہتری لائی ہے اور انہیں الیکٹرانک مداخلت سے محفوظ بنانے والی ٹیکنالوجی واپس ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ بھی شیئر کی ہے۔ مغربی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اب روسی طرز کی حکمت عملی اپنا رہا ہے جس میں فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کے لیے ڈرونز کی بڑی تعداد کا استعمال شامل ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے ڈرونز کے استعمال میں کمی سپلائی کے مسائل کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ روس کی حمایت محتاط اور حساب کتاب پر مبنی ہے نہ کہ فیصلہ کن۔ ماسکو نے براہ راست تنازع میں حصہ نہیں لیا ہے اور نہ ہی تہران کے ساتھ کسی باضابطہ دفاعی معاہدے کا پابند ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ روس اس صورتحال سے بالواسطہ فائدہ اٹھا رہا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتیں صدر ولادیمیر پوتن کی حکومت کو یوکرین جنگ جاری رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر روس کی حمایت کو ٹھوس کے بجائے علامتی سمجھا جا رہا ہے اور تہران بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ روسی مدد جنگ کا پانسہ پلٹنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -