-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکا کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے کا فیصلہ

تازہ ترین

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کا آغاز

امریکا سمیت دنیا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمرانہ پالیسیوں اور حکومت کے غیر آئینی اقدامات کے خلاف...
-Advertisement-

واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیسرے بحری بیڑے کو خطے میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں امریکی فوجی آپریشنز میں نمایاں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش ورجینیا کے علاقے نورفولک سے روانہ ہو چکا ہے اور مشرق وسطیٰ کی جانب گامزن ہے۔ یہ بیڑا پہلے سے موجود یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس ابراہم لنکن کے ساتھ شامل ہو جائے گا جس کے بعد خطے میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی کل تعداد تین ہو جائے گی۔

یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، جو حال ہی میں آگ لگنے کے واقعے سے متاثر ہوا تھا، فی الحال مرمت کے لیے کریٹ جزیرے کے قریب لنگر انداز ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس تیسرے بحری گروپ کی آمد کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشنز کو تقویت دینا ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ کی اعلیٰ تزویراتی تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں اپنے بیشتر عسکری اہداف حاصل کر لیے ہیں اور جلد ہی انخلا عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں جلد مستحکم ہو جائیں گی۔

ایک حالیہ انٹرویو میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ جاری تنازع میں امریکہ اپنے تزویراتی مقاصد کے حصول میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وسیع تر ہدف ایرانی حکومت کو کمزور کرنا رہا ہے۔ نائب صدر کے مطابق ایرانی قیادت کو طویل مدت کے لیے غیر مؤثر بنانا اس مہم کا کلیدی مقصد تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -