-Advertisement-

ایران بحران: اسلام آباد میں چار ملکی وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس آج ہوگا

تازہ ترین

اسرائیل میں جنگ مخالف مظاہرے، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں

تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر شہروں میں ہفتے کے روز جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے...
-Advertisement-

اسلام آباد خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے آج ایک اہم سفارتی مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس شروع ہو رہا ہے جس کا مقصد ایران اور امریکا اسرائیل اتحاد کے درمیان جاری محاذ آرائی کو روکنا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق مصر کے ڈاکٹر بدر عبدالعاطی، ترکی کے ہاکان فیدان اور سعودی عرب کے شہزادہ فیصل بن فرحان السعود دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور جنگ بندی کے امکانات پر تفصیلی غور کریں گے۔

ملاقاتوں کے دوران تناؤ میں کمی لانے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے ٹھوس تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران جنگ کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

مہمان وزرائے خارجہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے جس میں انہیں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن فارمولے پر بریفنگ دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق بات چیت کا محور باہمی تعاون، علاقائی استحکام اور مستقبل کی حکمت عملی ہوگا۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے متحرک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تمام فریقین بشمول ایران سے رابطے میں ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایک نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ایک میکانزم تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ جائزہ لیں گے کہ جنگ کے حوالے سے مذاکرات کس سمت جا رہے ہیں اور یہ چاروں ممالک مل کر کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ چاروں ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں کیونکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ سے ان ممالک کی توانائی کی سپلائی اور تجارتی راستے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے تہران کو جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز سے آگاہ کیا ہے اور مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے جس پر ایرانی حکام نے پاکستان یا ترکی میں بات چیت پر آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -