اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم چار فریقی مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ یہ مذاکرات پاکستان کی قیادت میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط کوشش کا حصہ ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود خصوصی طیارے کے ذریعے نور خان ایئربیس پہنچے، جن کا دورہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ساتھ ملاقات میں اسحاق ڈار نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین گہرے برادرانہ تعلقات اور مشترکہ ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے مثبت رجحان پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس دوران ایران کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی روابط کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے ساتھ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے نومبر 2025 میں ہونے والے دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیا۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں وزراء نے کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے سفارتی حل پر زور دیا۔ اسحاق ڈار نے فلسطین کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور غزہ و مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے غزہ کے عوام تک انسانی امداد پہنچانے میں مصر کے کردار کو بھی سراہا۔
یہ مذاکرات 29 مارچ 2026 کو شروع ہوئے جس کا مقصد علاقائی امن کے قیام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ شرکاء نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت کثیر الجہتی فورمز پر قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
