-Advertisement-

افغانستان میں شدید موسم کی تباہ کاریاں، 17 افراد ہلاک اور درجنوں مکانات تباہ

تازہ ترین

پاکستان کی قیادت میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات، امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کی حمایت

اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا جس...
-Advertisement-

افغانستان کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں، سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 17 افراد ہلاک جبکہ 26 زخمی ہو گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس کے بعد ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان یوسف حماد کے مطابق قدرتی آفات سے ملک کے 34 میں سے 13 صوبے متاثر ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر مغربی، وسطی اور شمال مغربی علاقے شامل ہیں۔ حکام متاثرہ علاقوں میں سروے کر رہے ہیں تاکہ نقصانات کا حتمی تخمینہ لگایا جا سکے۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق شدید موسم کے باعث 147 مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 80 کلومیٹر طویل سڑکیں بھی بہہ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی اراضی، آبپاشی کے نظام اور کاروباری مراکز کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور مجموعی طور پر 530 خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ پیر کے روز مشرقی اور وسطی علاقوں میں مزید موسلادھار بارشوں کا امکان ہے جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں کو دریاؤں کے کناروں اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ مقامی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے انتہائی حساس ملک ہے جہاں شدید بارشیں اور برفباری اکثر تباہ کن سیلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ رواں سال کے دوران موسم بہار میں آنے والے سیلابوں سے 300 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دہائیوں پر محیط تنازعات، ناقص انفراسٹرکچر اور جنگلات کی کٹائی کے باعث ان قدرتی آفات کے اثرات خاص طور پر دور دراز علاقوں میں زیادہ سنگین ثابت ہوتے ہیں جہاں کچے مکانات قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -