-Advertisement-

حزب اللہ کے راکٹ حملے روکنے کے لیے نیتن یاہو کا جنوبی لبنان میں آپریشن وسیع کرنے کا حکم

تازہ ترین

امریکی زمینی کارروائی پر ایرانی فوج کا امریکی دستوں کو ‘آگ لگانے’ کی دھمکی

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج نے زمینی...
-Advertisement-

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حزب اللہ کی جانب سے مسلسل راکٹ حملوں کے پیش نظر جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسیع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یروشلم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو نے اسرائیلی شمالی کمان کے دورے کے دوران ویڈیو بیان میں کہا کہ انہوں نے سکیورٹی زون کو مزید بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرحد پار سے حملوں کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا اور اینٹی ٹینک میزائلوں کی فائرنگ کو ملکی سرحدوں سے دور رکھنا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس نئی پیشرفت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے اور یہ معاملہ تاحال سکیورٹی کابینہ میں زیر بحث نہیں لایا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی افواج دریائے لیتانی تک کے علاقے اور وہاں موجود پلوں پر کنٹرول حاصل کریں گی جو اسرائیلی سرحد سے تقریباً تیس کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اب تک ہزاروں حزب اللہ جنگجوؤں کو ہلاک کر چکا ہے اور ان کے میزائلوں کے وسیع ذخیرے کو ناکارہ بنایا گیا ہے جو اسرائیلی شہروں کے لیے خطرہ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ اب بھی راکٹ داغنے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے تاہم اسرائیل شمالی سرحد پر صورتحال کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

حزب اللہ کے ذرائع کے مطابق دو مارچ سے شروع ہونے والی اس جنگ میں تنظیم کے چار سو سے زائد جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب لبنانی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں خواتین، بچوں اور طبی عملے سمیت گیارہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران ان کے چار فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اسرائیل ایران اور اس کے اتحادی گروپس بشمول حزب اللہ اور حماس کے خلاف کثیر الجہتی محاذ پر جنگ لڑ رہا ہے اور ان کارروائیوں سے خطے میں ایران کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -