امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب کہا ہے کہ انہیں کیوبا کے ساحل پر موجود روسی آئل ٹینکر کی جانب سے جزیرے پر امدادی تیل پہنچانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ امریکی پابندیوں کے باعث کیوبا شدید معاشی بحران اور ایندھن کی قلت کا شکار ہے۔ واشنگٹن واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں پرواہ نہیں کہ کون تیل پہنچا رہا ہے کیونکہ کیوبا کے عوام کو بقا کے لیے اس کی ضرورت ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے حوالے سے سوال پر صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر کوئی ملک کیوبا کو تیل بھیجنا چاہتا ہے تو انہیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں، چاہے وہ روس ہی کیوں نہ ہو۔ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اناطولی کولودکن نامی یہ ٹینکر تقریباً سات لاکھ تیس ہزار بیرل تیل لے کر کیوبا کے مشرقی ساحل کے قریب پہنچ چکا ہے اور منگل تک اس کے ماتانزاس شہر پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ جہاز یوکرین جنگ کے بعد سے امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
کیوبا میں جاری بحران کے باعث ملک بھر میں بجلی کی طویل بندش معمول بن چکی ہے، جس سے ہسپتالوں کا نظام اور پبلک ٹرانسپورٹ شدید متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کھیپ تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار بیرل ڈیزل فراہم کر سکتی ہے جو کیوبا کی نو سے دس دن کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ اس اقدام سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک جہاز کا معاملہ ہے جس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کیوبا کے عوام کو ایندھن ملے تاکہ وہ اپنے گھروں میں حرارت اور ٹھنڈک کا انتظام کر سکیں۔
تاہم ٹرمپ نے اپنے سخت موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا ایک ناکام ریاست ہے اور جلد ہی اس کا نظام ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کیوبا کا نمبر اگلا ہے اور بحران کے بعد امریکہ وہاں موجود کیوبا نژاد امریکیوں کی مدد کے لیے تیار ہوگا۔
دوسری جانب کیوبا کے عوام کی مدد کے لیے نجی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں۔ میکسیکو سے روانہ ہونے والے دو کشتیوں کے قافلے نوسٹرا امریکنا نے ہفتے کے روز ہوانا میں لنگر انداز ہو کر امدادی سامان پہنچایا۔ اس قافلے کے کوآرڈینیٹر عدنان اسٹومو نے کہا کہ ان کا مقصد کیوبا کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے اور اس مشکل سفر کے دوران انہیں موسم کی خرابی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
