-Advertisement-

حوثی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

تازہ ترین

جی سیون وزراء مشرقِ وسطیٰ جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم

عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے معاشی...
-Advertisement-

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان پیر کے روز بھی برقرار رہا جس کے بعد برینٹ کروڈ اپنی ماہانہ بلند ترین سطح کی جانب گامزن ہے۔ یمنی حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے پہلے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی جنگ کا دائرہ کار ایران تک پھیل گیا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

پیر کی صبح برینٹ کروڈ کے سودے دو ڈالر تینتالیس سینٹ یعنی دو اعشاریہ سولہ فیصد اضافے کے بعد ایک سو پندرہ ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت ایک ڈالر چھیاسی سینٹ اضافے کے بعد ایک سو ایک ڈالر پچاس سینٹ فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہے۔

وانڈا انسائٹس کی بانی وندنا ہری کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اب جنگ کے مذاکرات کے ذریعے خاتمے کی توقعات ختم کر چکی ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ رابطوں کے دعووں کے باوجود سرمایہ کار عسکری کشیدگی میں اضافے کے لیے تیار ہیں جو خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا باعث بن رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور ایرانی قیادت کا رویہ معقول رہا ہے تاہم دوسری جانب خطے میں امریکی فوج کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے اور اسرائیلی فوج نے تہران میں ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا اعلان کیا ہے۔

برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں رواں ماہ انسٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے جو 1990 کی خلیجی جنگ سے بھی زیادہ ہے۔ اس تیزی کی بڑی وجہ ایران تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش ہے جہاں سے دنیا بھر کی بیس فیصد تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔

جے پی مورگن کی تجزیہ کار نتاشا کانیوا کے مطابق تنازع اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے نکل کر بحیرہ احمر اور باب المندب تک پھیل چکا ہے جو خام تیل کی نقل و حمل کے لیے دنیا کے اہم ترین راستے ہیں۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے اپنی تیل کی برآمدات آبنائے ہرمز سے ہٹا کر بحیرہ احمر میں واقع ینبع پورٹ کی جانب منتقل کی ہیں جو چار اعشاریہ چھ پانچ ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہیں۔

عمان کے صلالہ ٹرمینل پر ہونے والے حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ادھر ایران نے امریکا کی جانب سے زمینی حملے کی تیاریوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -