-Advertisement-

ایران سے مذاکرات میں پیش رفت، آبنائے ہرمز بند رکھنے پر ٹرمپ کی مزید حملوں کی دھمکی

تازہ ترین

صرف انگریزی میں پیغام دینے پر تنقید: ایئر کینیڈا کے سی ای او مستعفی

ایئر کینیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مائیکل روسو نے رواں سال کے اختتام پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے...
-Advertisement-

واشنگٹن سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ نئے معاہدے کے امکانات کو روشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک نئے اور زیادہ معقول فریم ورک کے تحت سنجیدہ بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین جلد کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہ کھولا گیا اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان تنصیبات میں بجلی گھر، تیل کے کنویں اور جزیرہ خارک شامل ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ اب تک جان بوجھ کر ایسی تنصیبات کو ہدف نہیں بنایا گیا، تاہم امریکی جانوں کے کسی بھی نقصان کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جوہری تنصیبات پر کسی بھی حملے کو مجرمانہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے کردار پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی کا خاموش رہنا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے اور یہ ان کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ہے۔

ایرانی ترجمان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی آمنے سامنے کی بات چیت نہیں کی۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ تہران کو بالواسطہ ذرائع سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن سے مذاکرات میں امریکی دلچسپی کا اشارہ ملتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -