-Advertisement-

غزہ میں اسرائیلی جارحیت: شہداء کی تعداد 72 ہزار 280 تک پہنچ گئی

تازہ ترین

اسرائیل: حیفہ آئل ریفائنری پر حملے کے بعد خوفناک آتشزدگی، امدادی کارروائیاں جاری

اسرائیل کے شہر حیفہ میں واقع آئل ریفائنری میں پیر کے روز ایک بڑے دھماکے کے بعد شدید آگ...
-Advertisement-

غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 72 ہزار 280 تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق اس عرصے کے دوران ایک لاکھ 72 ہزار 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فائرنگ سے مزید دو افراد شہید اور ایک زخمی ہوا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں کم از کم 704 افراد شہید اور ایک ہزار 914 زخمی ہو چکے ہیں۔ مقامی حکام نے جنگ بندی کے بعد ملبے سے 756 لاشیں بھی برآمد کی ہیں۔

اسرائیلی جارحیت نے غزہ کی تقریباً پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے اور 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس تباہی کی تعمیر نو پر 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

دوسری جانب اسرائیلی پارلیمنٹ آج ایک ایسے متنازع بل پر ووٹنگ کرنے جا رہی ہے جس کے تحت فوجی عدالتوں میں اسرائیلیوں کے قتل کے مرتکب فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو بنیادی سزا قرار دیا جائے گا۔ یورپی اتحادیوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام فوجی قبضے کے شکار فلسطینیوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔

اس بل کو انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بین گویر نے تیار کیا ہے۔ بل میں 90 دنوں کے اندر سزا سنانے کی شق شامل ہے اور اس میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا ہدف مغربی کنارے کے فلسطینی ہیں کیونکہ مقبوضہ علاقے میں قائم فوجی عدالتیں صرف فلسطینیوں کا ٹرائل کرتی ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان عدالتوں میں سزا پانے کی شرح تقریباً 100 فیصد ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -