-Advertisement-

روس نے جاسوسی کے الزامات پر برطانوی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا

تازہ ترین

برطانیہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں فریق نہیں بنے گا، برطانوی وزیراعظم کا دو ٹوک مؤقف

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے پیر کے روز دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا ہے کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ...
-Advertisement-

ماسکو نے برطانوی سفارت کار کو جاسوسی کے الزامات کے تحت ملک بدر کر دیا ہے، جبکہ لندن نے ان الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ روسی خفیہ ایجنسی ایف ایس بی کے مطابق انتیس سالہ سفارتی سیکریٹری البرٹس گیرہارڈس جانسے وین رینزبرگ کو روسی سلامتی کے خلاف تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے برطانوی ناظم الامور کو طلب کر کے تنبیہ کی ہے کہ اس فیصلے کے جواب میں کوئی جوابی کارروائی نہ کی جائے۔ روسی حکام کے مطابق مذکورہ سفارت کار کو اپنی ایکریڈیشن ختم ہونے کے بعد دو ہفتوں کے اندر روس سے نکلنا ہوگا۔

دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس ہمارے سفارت کاروں کے خلاف اشتعال انگیز اور مربوط مہم چلا رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے الزامات سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔

یوکرین جنگ کے باعث لندن اور ماسکو کے درمیان سفارتی تعلقات پہلے ہی نچلی ترین سطح پر ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین جاسوسی کے الزامات پر سفارتی عملے کی بے دخلی کا سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے، جس میں اکثر ایک ملک کی جانب سے کارروائی کے بعد دوسرا ملک جوابی اقدام اٹھاتا ہے۔

ماضی میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی کی کئی بڑی وجوہات رہی ہیں۔ سنہ دو ہزار چھ میں سابق روسی انٹیلی جنس افسر الیگزینڈر لٹوینینکو کی لندن میں زہر دے کر ہلاکت، اور سنہ دو ہزار اٹھارہ میں برطانوی شہر سالسبری میں سابق روسی ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکریپل پر اعصابی زہر کے حملے کے واقعات دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی کا باعث بنے تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -